نیویارک(اوصاف نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کیلئے ایک نئے میزائل دفاعی نظام ‘گولڈن ڈوم’ کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر ملکی حملوں سے امریکا کو بچانے کے لیے ایک نئے میزائل دفاعی نظام “گولڈن ڈوم” کے منصوبے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ نظام ان کی دوسری مدت صدارت کے اختتام تک فعال ہو جائے گا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا الیکشن مہم کے دوران میں نے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ میں ایک جدید ترین میزائل دفاعی شیلڈ بناؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اس جدید نظام کے لیے باضابطہ طور پر بنیادی خاکہ منتخب کر لیا ہے۔گولڈن ڈوم دفاعی نظام پر175ارب ڈالرخرچ ہوں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ دفاعی بل میں گولڈن ڈوم کیلئے 25 ارب ڈالر شامل ہوں گے، گولڈن ڈوم کیلئے ہر چیز امریکا میں بنائی جائے گی، اسپیس آپریشنز کے نائب سربراہ جنرل مائیکل اس منصوبے کی قیادت کریں گے۔

امریکی صدر نے بتایا کہ گولڈن ڈوم دفاعی نظام کے کچھ حصےزمین کے گردمدار میں بھی ہوں گے، اس نظام میں سیٹیلائیٹ ٹریکنگ اور اسپیس انٹرسیپٹرز بھی شامل ہوں گے۔گولڈن ڈوم دفاعی نظام خلاسے داغے گئے میزائلوں کو بھی مارگرانے کے قابل ہوگا۔

اس کے علاوہ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا گولڈن ڈوم میزائل دفاعی نظام کا حصہ بننا چاہتا ہے اور امریکا اس حوالے سے کینیڈا کی مدد بھی کرے گا۔

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے سربراہ نے بتایا کہ گولڈن ڈوم کا مقصد کروز، بیلسٹک،ہائپرسونک میزائلوں سے وطن کی حفاظت کرناہے چاہے وہ روایتی ہوں یا جوہری۔
بیجنگ میں سی فریقی وزرائے خارجہ کی ملاقات، سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر زور
بیجنگ میں سی فریقی وزرائے خارجہ کی ملاقات، سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر زور

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میزائل دفاعی امریکی صدر دفاعی نظام گولڈن ڈوم ہوں گے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل