امریکی فوج میں اپنی شناخت ٹرانس جینڈر کے طور پر کروانے والے اہلکاروں کے ریکارڈز کو پیدائش کے وقت کی جنس کے لحاظ سے درست کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ ملک میں صرف دو جنسیں (مرد اور عورت) ہی ہوں گی۔

جس کے امریکی فوج میں شامل متعدد خواجہ سرا اہلکاروں کو نکالنے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا جنھوں نے اپنی جنس تبدیل کروائی تھی۔

جس کے بعد ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں ٹرانس جینڈر فوجیوں کو نکالنے کا عمل شروع کرنے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

اس 14 صفحات پر مشتمل میمو میں کمانڈرز کو ہدایت کی گئی ہیں کہ وہ تمام فوجیوں کے ذاتی ریکارڈز کو ان کی پیدائش کے وقت کی جنس کے مطابق اپ ڈیٹ کریں۔

میمو اسیے دیگر اقدامات پر بھی عمل درآمد کرانے کا کہا گیا ہے جن کا مقصد ٹرانس جینڈر فوجیوں کو ملازمت سے فارغ کرنا ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ سپریم کورٹ نے پینٹاگون کو ٹرانس جینڈر افراد کی فوج میں ملازمت پر پابندی نافذ کرنے کی اجازت دی تھی۔

پینٹاگون اب اُن ٹرانس جینڈر فوجیوں کو نکالنا شروع کرے گا جو خود سے استعفیٰ نہیں دیتے۔ ایسے تمام فوجیوں کو 6 جون تک کا وقت دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی فوج اور نیشنل گارڈ میں اس وقت 4 ہزار 240 ٹرانس جینڈر اہلکار موجود ہیں۔ یہ بھرتیاں جوبائیڈن دور میں ٹرانس جینڈر کو فوج میں شمولیت کی اجازت دینے پر ہوئی تھیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹرانس جینڈر فوجیوں کو فوج میں کی فوج

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان