ٹرمپ کے حکم پر عمل درآمد؛ امریکا میں ٹرانس جینڈر فوجیوں کو نکالنے کا عمل شروع
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
امریکی فوج میں اپنی شناخت ٹرانس جینڈر کے طور پر کروانے والے اہلکاروں کے ریکارڈز کو پیدائش کے وقت کی جنس کے لحاظ سے درست کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا تھا کہ ملک میں صرف دو جنسیں (مرد اور عورت) ہی ہوں گی۔
جس کے امریکی فوج میں شامل متعدد خواجہ سرا اہلکاروں کو نکالنے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا جنھوں نے اپنی جنس تبدیل کروائی تھی۔
جس کے بعد ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں ٹرانس جینڈر فوجیوں کو نکالنے کا عمل شروع کرنے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
اس 14 صفحات پر مشتمل میمو میں کمانڈرز کو ہدایت کی گئی ہیں کہ وہ تمام فوجیوں کے ذاتی ریکارڈز کو ان کی پیدائش کے وقت کی جنس کے مطابق اپ ڈیٹ کریں۔
میمو اسیے دیگر اقدامات پر بھی عمل درآمد کرانے کا کہا گیا ہے جن کا مقصد ٹرانس جینڈر فوجیوں کو ملازمت سے فارغ کرنا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ سپریم کورٹ نے پینٹاگون کو ٹرانس جینڈر افراد کی فوج میں ملازمت پر پابندی نافذ کرنے کی اجازت دی تھی۔
پینٹاگون اب اُن ٹرانس جینڈر فوجیوں کو نکالنا شروع کرے گا جو خود سے استعفیٰ نہیں دیتے۔ ایسے تمام فوجیوں کو 6 جون تک کا وقت دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی فوج اور نیشنل گارڈ میں اس وقت 4 ہزار 240 ٹرانس جینڈر اہلکار موجود ہیں۔ یہ بھرتیاں جوبائیڈن دور میں ٹرانس جینڈر کو فوج میں شمولیت کی اجازت دینے پر ہوئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹرانس جینڈر فوجیوں کو فوج میں کی فوج
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔