ملک کے میدانی علاقوں شدید گرمی کا امکان، دادو اور سبی میں پارہ 50 ڈگری تک جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
ملک کے بیشتر میدانی علاقے شدید گرمی کی لہر کے زیرِ اثر رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق دادو اور سبی میں پارہ 50 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔
ڈیرہ غازی میں 47، سکھر اور بہالپور میں 46، ملتان میں 45، پشاور میں 44، لاہور، راولپنڈی اور کوئٹہ میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
بحیرۂ عرب کے مشرقی وسطی حصّے میں ہوا کا کم دباؤ تشکیل پاگیا ہے۔
کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 37 ڈگری رہنے کی توقع ہے۔
ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ زیادہ پانی پیئیں، دھوپ میں کم وقت گزاریں، دھوپ میں نکلتے وقت سر کو ڈھانپیں۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ صحت کے مسائل سے بچنے کے لیے مضر صحت مشروبات سے گریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا امکان
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔