خضدا ر میں سکول بس پر نہیں بلکہ ہماری اقدار پر حملہ تھا، وفاقی سیکرٹر ی داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 مئی 2025)وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے خضدار میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا، سکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا یہ حملہ سکول پر نہیں ہماری اقدار پر حملہ تھا ، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہیں، دہشت گردوں کو خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ خضدار میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
دہشت گردوں نے سکول کے بچوں کو نشانہ بنایا۔ 21 مئی کو خضدار میں افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہیں۔(جاری ہے)
جو ہارڈ ٹارگٹ میں ناکامی کے بعد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنارہا ہے۔ دہشت گردوں کو خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
بلوچستان سمیت ملک بھرمیں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔فتنہ الہندوستان خضدارمیں بچوں کی شہادت میں ملوث ہے۔حملے کے کئی بچے ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔سیکرٹری داخلہ خرم آغا نے کہا کہ دہشتگردوں کے عزائم کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ان کامزید کہنا تھا کہ بھارت 20 سال سے ریاستی دہشت گردی کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔ مکتی باہنی کا قیام، سانحہ سقوط ڈھاکہ اس کی مثالین واضح ہیں۔ بھارت خطے کا امن سبوتاژ کر رہا ہے۔ مختلف گرفتار دہشتگردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا ہے۔کئی گرفتار دہشت گردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیاہے۔سرنڈر کرنے والے فتنہ الہندوستان کے ارکان نے بیانات میں تمام حقائق بتائے ہیں۔خضدار واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے جس میں بھارت کے حکم پر یہ واقعہ کیا گیا اور فتنہ الہندوستان بھارت کے حکم پر بچوں، مسافروں اور معصوم لوگوں کو شہید کرتا ہے۔دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فتنہ الہندوستان کو نشانہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔