Daily Ausaf:
2026-07-24@05:59:20 GMT

غزہ، ظلم کی انتہا اور انسانیت کا امتحان

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

آج کی دنیا جو بظاہر “مہذب” کہلاتی ہے، وہاں ایک ایسا انسانی المیہ جاری ہے، جو نہ صرف بین الاقوامی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے بلکہ تہذیبِ انسانی کے ماتھے پر بھی کلنک کا ٹیکہ بھی۔ غزہ کی زمین اس وقت جس کرب اور بربادی سے گزر رہی ہے، اس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہاں نہ صرف بمباری جاری ہے بلکہ انسانیت کی بنیادیں لرز چکی ہیں۔ بچوں کی لاشیں، ماؤں کی آہیں، اور بھوک سے بلکتے جسم اس خطے کی روزمرہ حقیقت بن چکے ہیں۔ سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ان مظالم کا ہدف وہ طبقہ بن رہا ہے جو سب سے زیادہ کمزور ہے یعنی عورتیں اور بچے۔ اسرائیلی بمباری میں سینکڑوں مائیں اپنے بچوں کے ساتھ شہید ہو چکی ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کو بھی نہیں بخشا گیا۔ حمل کے دوران زچگی کی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں خواتین یا تو خود موت کا شکار ہو گئیں یا ان کے بچے پیدا ہوتے ہی زندگی کی جنگ ہار گئے۔ غزہ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بچے ہیں۔ یہ معصوم جانیں نہ کسی جنگ کو سمجھتی ہیں، نہ کسی نظریے سے واقف ہوتی ہیں، مگر ان کی لاشیں ملبے تلے سے برآمد ہوتی ہیں۔ کچھ بچے اپنے پورے خاندان سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں صرف یہ سوال ہے کہ کس جرم کی پاداش میں ہم پر ظلم کی انتہاہورہی ہے؟ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، ہر گھنٹے میں اوسطاً دو فلسطینی بچے یا تو شہید ہو رہے ہیں یا شدید زخمی۔ اسرائیل کی پالیسیوں میں عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانا ایک “پریشر ٹیکٹک” کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، تاکہ فلسطینی مزاحمت کو کمزور کیا جا سکے۔ خوراک، پینے کا صاف پانی، اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت نے صورتحال کو قحط کی طرف دھکیل دیا ہے۔ حالیہ بمباریوں نے کھانے پینے کی تمام رسدگاہوں کو نشانہ بنایا ہے۔ کھیت تباہ، فیکٹریاں ملبے کے ڈھیر اور بازار اجاڑ دیے گئے ہیں۔ امدادی قافلوں کو روکا جا رہا ہے، یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس جیسی تنظیمیں بھی بے بس نظر آ رہی ہیں۔ جب ایک پوری نسل کو منظم انداز میں مٹانے کی کوشش کی جائے، تو اسے صرف “تنازع” کہنا ناانصافی ہے۔ یہ کھلا قتلِ عام ہے، نسل کشی ہے اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ لیکن عالمی میڈیا کا ایک بڑا حصہ اسے متوازن رپورٹنگ کا نام دے کر ظالم و مظلوم کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتا ہے۔ یہ لمحہ صرف فلسطین کا نہیں، پوری دنیا کا امتحان ہے۔ کیا ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے؟ یا ان معصوم بچوں اور عورتوں کی آہوں کا کوئی عملی جواب دیں گے؟ کیا مسلم دنیا صرف بیانات تک محدود رہے گی یا عملی اقدامات اٹھائے گی؟ سفارتی دباؤ، تجارتی بائیکاٹ، اور اجتماعی احتجاجی تحریکیں اس ظلم کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ ہر فرد، ہر قوم اور ہر ادارے کی یہ اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ غزہ کی ماں، اس کے یتیم بچے، اور اس کی بھوکی بیٹی ہم سے سوال کر رہی ہے کہ کیا تم ہمارے ساتھ ہو؟ غزہ کی پٹی، پچھلے کئی دہائیوں سے ظلم و بربریت کا میدان بنی ہوئی ہے۔ لیکن حالیہ مہینوں میں اسرائیلی جارحیت نے جو شکل اختیار کی ہے، وہ انسانیت، بین الاقوامی قوانین، اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ غزہ کا ہر گھر ماتم کدہ ہے، ہر چہرہ دکھ کا آئینہ، اور ہر دل ایک ٹوٹا ہوا خواب۔ غزہ”دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل” بن چکا ہے۔ غزہ سے نکلنے والی ہر چیخ، ہر تصویر، اور ہر ویڈیو کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، انٹرنیٹ سروس معطل کی جاتی ہے تاکہ دنیا سچائی نہ جان سکے۔ اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، اور بڑی طاقتیں اکثر صرف تشویش کا اظہار کرکے خاموش ہو جاتی ہیں۔ یہ دوغلا پن عالمی امن کے دعویداروں کی منافقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ فلسطین کا مقدمہ صرف زمین کا نہیں، انسانیت کا ہے۔ غزہ کے بچے، مائیں، بزرگ، اور نوجوان ہم سے سوال کر رہے ہیں، کیا ہمارا کوئی حق نہیں؟ کیا ہماری چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ جب ظلم کا بازار گرم ہو، مظلوم کی چیخیں سننے والا کوئی نہ ہو، اور ظالم کو عالمی حمایت حاصل ہو، تو انسانیت اور انسانی حقوق کی علمبرداری صرف لفظوں تک محدود ہو جاتی ہے۔ اسرائیلی افواج کی بربریت نے نہ صرف عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنایا ہے، بلکہ ہر روز انسانی جسموں کو چھلنی، بچوں کو یتیم، ماؤں کو بے اولاد، اور باپوں کو لخت جگر سے محروم کر دیا ہے۔ غزہ میں خواتین کی زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ ہر روز اسپتالوں کے باہر خون آلود کپڑوں میں لپٹی لاشیں اُن ماؤں کی ہوتی ہیں، جو اپنے بچوں کو سینے سے لگائے پناہ کی تلاش میں مار دی گئیں۔ اسرائیلی حملوں میں کئی ہسپتالوں میں زچگی کے دوران خواتین نے جان دی، کیونکہ نہ دوائیں دستیاب تھیں، نہ ڈاکٹر، اور نہ بجلی۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے جاری اسرائیلی جارحیت نے غزہ کو ایسی تباہی سے دوچار کیا ہے جسے انسانی تاریخ میں نسل کشی (Genocide) کے جدید نمونے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ الجزیرہ اور بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق، غزہ میں 50 سے زائد اسپتال یا تو تباہ کیے جا چکے ہیں یا ان کی خدمات معطل ہیں، جس کے باعث زچگی کے کیسز گھروں یا کھلے میدانوں میں ہو رہے ہیں، بغیر دوا، بجلی یا ڈاکٹر کے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یونیسف (UNICEF کے لیے غزہ دنیا کا سب سے خطرناک مقام بن چکا ہے۔” ان کی رپورٹ کے مطابق، صرف تین ماہ8000 سے زائد بچے شہید ہوئے—یعنی ہر گھنٹے میں تقریباً 3 معصوم جانیں! ہیومن رائٹس واچ (HRW) اور Save the Children جیسی تنظیمیں بھی واضح کر چکی ہیں کہ بچوں کے اسکولوں، پناہ گزین کیمپوں، اور حتیٰ کہ اسپتالوں کو دانستہ نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کی رپورٹ کے مطابق، مارچ 2024 تک غزہ کی 85 فیصد آبادی “شدید غذائی قلت” (Severe Food Insecurity) کا شکار ہو چکی تھی اور اب تو حالات اس سے بھی کہیں ابتر ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک (FAO) نے خبردار کیا کہ اگر فوری امداد نہ پہنچی تو غزہ میں قحط سالی کا باقاعدہ اعلان کرنا پڑے گا۔ اسرائیلی افواج نے امدادی قافلوں کو بارہا روک کر یا نشانہ بنا کر قحط کو دانستہ جنگی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ یہاں بچوں کو ماں کا دودھ نصیب نہیں، شیر خوار بچوں کے لیے فارمولہ ملک ناپید، اور بزرگوں کو پانی کی بوند تک میسر نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی حمایت میں متعدد قراردادیں منظور ہوئیں، لیکن عملی اقدام صفر رہا۔ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) نے جنوری 2024 میں یہ تسلیم کیا کہ غزہ میں ہونے والی کارروائیاں نسل کشی کے امکان” کے تحت آئیں گی، لیکن اس کے باوجود اسرائیلی بمباری میں کمی نہیں آئی۔او آئی سی (OIC) کی وزرائے خارجہ کانفرنسیں، عرب لیگ کی قراردادی مذمتیں، اور مسلم ممالک کے گہرے دکھ” کے بیانات غزہ کے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔ امت مسلمہ کے پاس معاشی، عسکری، سفارتی اور ابلاغی طاقت ہے، مگر افسوس کہ ان سب پر مفادات اور سیاسی مجبوریوں کا قفل لگا ہوا ہے۔ غزہ کی ہر گلی، ہر بچہ، ہر ماں، اور ہر قبر ہم سے سوال کر رہی ہے، کیا تم صرف تصویریں دیکھ کر افسوس کرو گے یا عملی اقدام بھی کرو گے؟ یہ کالم صرف ایک تحریر نہیں، بلکہ ضمیر کی پکار ہے۔ اگر ہم خاموش رہے تو ہم بھی تاریخ میں ان مجرموں کی صف میں کھڑے ہوں گے جنہوں نے ظلم کو دیکھا اور کچھ نہ کہا یا کر سکنے کے باوجود کچھ نہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اور انسانی کے مطابق بچوں کو اور ہر رہا ہے کے لیے غزہ کی رہی ہے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟