یو اے ای؛ سوشل میڈیا میں کمنٹس پرنوجوان پر بھاری جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
AL AIN:
متحدہ عرب امارات میں ایک شہری کو سوشل میڈیا میں ہتک آمیز کمنٹس کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سول، کمرشل اور انتظامی امور کی عدالت العین نے ایک نوجوان کو کاروباری شخص کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں ہتک آمیز کمنٹس کے ذریعے ان کے دکان کی شہرت خراب کرنے اور اس کے نتیجے میں مالی نقصانات پر انہیں 70 ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کاروباری شخص عدالت میں مذکورہ نوجوان کے خلاف درخواست دائر کی تھی اور مالی اور اخلاقی نقصان سمیت کورٹ فیس اور قانونی اخراجات کی مد میں دو لاکھ درہم ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
درخواست میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزم نے بیانات شائع کرکے ان کے کاروبار کو تباہ کردیا ہے، جس سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے نتیجے میں ان کو مالی نقصان بھی ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیانات سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کمنٹس کے طور پر پوسٹ کیے گئے تھے۔
ملزم نے عدالت سے کاروباری شخص کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی تھی اور انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ درخواست گزار نے جس دورانیہ میں نقصان کا دعویٰ کیا ہے، اس عرصے کے ٹیکس ریٹرنز عدالت وفاقی ٹیکس حکام سے طلب کرے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا تھا کہ درخواست گزار سے ان کے قانونی اخراجات بھی لیے جائیں گے اور اس کے علاوہ سرٹیفکیٹس، آن لائن گفتگو کے اسکرین شاٹس سمیت دستاویزات بھی طلب کی جائیں۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم پچھلے مقدمے میں پہلے ہی مجرم ثابت ہوچکا ہے اور ان پر ہتک عزت کا جرم ثابت ہوتا ہے اور ملزم کو حکم دیا کہ وہ درخواست گزار کو 70 ہزار درہم ہرجانے کے طور پر ادا کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز