کراچی:

سندھ میں بچوں کے سب سے بڑے اسپتال (این آئی سی ایچ) میں طبی اور انتظامی بحران شدت اختیار کرگیا ہے، جہاں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کی جانب سے او پی ڈی کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔

این آئی سی ایچ میں انتظامی بحران کے خلاف مظاہرین نے کہا کہ اسپتال میں کولنگ سسٹم ناکام ہوچکا ہے، جس سے آئی ٹی یو اور وارڈز کی سروسز بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے دعویٰ کیا کہ اسپتال میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے اور حکومت تعیناتیوں میں تاخیر کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کی ناقص صورت حال کے باعث ڈاکٹرز پر تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیں، ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کی سروسز معطل ہوچکی ہیں اور ادویات کی قلت نے والدین کو مہنگی دوائیں جیب سے خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق وہ زکوٰۃ اور عطیات کے ذریعے مریض بچوں کے لیے ادویات کا بندوبست کرنے پر مجبور ہیں۔

مذکورہ ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا کہ بچوں کو علاج کی سہولیات، عملے کو تحفظ اور اسپتال کا نظام شفاف بنایا جائے، بصورت دیگر او پی ڈی سروسز غیر معینہ مدت کے لیے بند کر کے دھرنا دیا جائے گا۔

دوسری جانب اسپتال کے ڈائریکٹر ناصر سدل نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو او پی ڈی بحال کرنے کی ہدایت کی، جس پر ان کے اور ڈاکٹروں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔

پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق