Daily Ausaf:
2026-06-03@07:52:32 GMT

فیلڈ مارشل کا بحث و مباحثہ

اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT

ان دنوں وفاقی کابینہ کی طرف سے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی بحث زور شور سے جاری رہی۔ حافظ جنرل عاصم منیر کو ملنے والے اس اعزاز کے حق اور مخالفت میں آپ جو مرضی رائے قائم کر لیں، لیکن اس فیصلے کی تہہ میں کارفرما سچائی یہی ہےکہ جس کے حق میں وفاقی کابینہ نے فیصلہ صادر کیا ہے۔صدرجنرل ایوب خان خطےکے پہلے 5ستاروں والے فیلڈ مارشل جنرل تھے۔ اب جنرل عاصم منیرتیسرےجنرل ہیں جنہیں فیلڈ مارشل کا عہدہ تفویض کیا گیا ہے۔
جنرل عاصم منیر کا منفرد اعزاز و مقام یہ ہے کہ انہوں نے کوئی مارشل لا ء نہیں لگایا، وہ حاضر سروس چیف آف آرمی سٹاف ہیں اوران کی قیادت میں افواج پاکستان نے انڈیا کو جنگ میں چاروں شانوں چت کیا ہےجس کو نہ صرف انڈیا، بلکہ پوری دنیا میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ہمارا ایک مخصوص سیاسی طبقہ، کچھ فوجی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کار جنرل عاصم منیر کی ترقی پر درپردہ اور دامے درمے سیخ پا نظر آرہے ہیں،جس کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ جنرل عاصم منیراس عہدہ کےحق دار نہیں تھےبلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کی ذاتی سیاسی وابستگی اور مفادات پر زد پڑتی ہے۔اس طبقے کو جنرل عاصم منیر کےفیلڈ مارشل بننےپراپنی سیاسی موت واضح نظرآرہی ہے۔ خاص طور پر تحریک انصاف کو جنرل عاصم منیر کےفیلڈ مارشل بننے پربہت تکلیف ہے۔ اسکی وجہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ تحریک انصاف کےبانی عمران خان کےجنرل عاصم منیر سےاختلافات بھی روز روشن کی طرح واضح ہیں۔ اب عمران خان جیل میں ہیں تو یہ امکانات محدود ہو گئے ہیں کہ انہیں جلد رہائی ملےگی۔ جنرل عاصم منیرکے فیلڈ مارشل بننے کا دوسرا مطلب تاحیات چیف آف آرمی سٹاف رہنا ہےیا اس وقت تک اس عہدے پرقانوناًفائزرہنا ہےجب تک کہ وہ خود اس عہدے سے مستعفیٰ نہ ہو جائیں۔ حافظ صاحب کےفیلڈ مارشل بننےکی خبرانڈیا اور اس کے پاکستانی ہمنوائوں کے لئے موت کاپیغام بن کر اتری ہے لہٰذا جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے پر پی ٹی آئی کا دکھ سمجھ میں آتا ہےکہ وہ ان کی ترقی پر کیوں تلملا رہے ہیں؟ حالانکہ صرف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز نہیں دیا گیا بلکہ حکومت پاکستان نے بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈمارشل کےعہدے پر ترقی دینے کے علاوہ ایئر چیف مارشل ظہیراحمدبابرسدھو کومدت ملازمت پوری ہونےکے بعد بطور پاکستان ایئرفورس کے سربراہ اپنی خدمات جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے۔وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق ان اہم فیصلوں کی منظوری منگل کے دن وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران دی گئی ہے۔یہ پیشرفت پاکستان اور انڈیا کی درمیان چار روزہ جنگ کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’حکومت پاکستان کی جانب سے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شِکست دینے پر جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی گئی ہے۔‘‘
فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کے برعکس سیدجنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہیں کہ جنہیں وزیراعظم اور صدر کی مشاورت کے بعد وفاقی کابینہ نے فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا ہے۔ اس سے قبل گو کہ جنرل ایوب خاں پاکستان کے فیلڈ مارشل رہ چکے ہیں مگر انہوں نے یہ عہدہ خود اپنے لئے زبردستی منتخب کیا تھا جبکہ جنرل عاصم منیر کو یہ غیرمعمولی فوجی رینک میرٹ پر اور ان کی فوجی اور دفاعی خدمات کے عوض دیا گیا ہے۔اس موضوع پر ایک فضول اور لایعنی بحث یہ کی جاری ہے کہ دو عہدے ایک ساتھ رکھنا غیر آئینی ہے یعنی کچھ حاسد دفاعی تجزیہ کار جنرل عاصم منیر کے فیلڈ مارشل بننے پر یہ رائے دے رہے ہیں کہ انہیں فیلڈ مارشل یا آرمی چیف میں سے ایک عہدہ چھوڑنا ہو گا، حالانکہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں فیلڈ مارشل کے عہدے کو اس کی خدمات کے بدلے صرف ایک ’’اعزازی عہدہ‘‘سمجھاجاتا ہے جو 4 سٹار جنرل کو ایک اضافی سٹار کا بیج لگا کر 5 سٹار جنرل والا فیلڈ مارشل بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی خدمات کا قومی اعتراف کیا جا سکے۔ اگر ضرورت پڑے تو آئین میں ترمیم کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہ کوئی اتنی بڑے مسئلے والی بات نہیں ہے کہ جس کو اتنی شدت سے زیر بحث لایا جائے۔یہ عہدہ جنرل عاصم منیر کو ہندوستان کو جنگ میں شکست دینے پردیاگیاہےجو 24 کروڑ پاکستانی عوام کی دلی خواہش کا نتیجہ ہے، جس سے دنیا بھر میں’’مسئلہ کشمیر‘‘دوبارہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔ خضدار میں دہشت گردی کے المناک واقعہ ہی کو دیکھ لیں کہ اندرون اور بیرون ملک پاکستان کے آرمی چیف کن گوناگوں مسائل سے نبرد آزماہیں۔ان حقائق کےدرمیان ایک اعزازی عہدے کو متنازعہ بنانا بذات خود مشکوک ہے اور دشمنوں کی صف میں کھڑا ہونے کے مترادف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: جنرل عاصم منیر کے عاصم منیر کو فیلڈ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بننے فیلڈ مارشل کا کے فیلڈ مارشل وفاقی کابینہ مارشل کے ہیں کہ

پڑھیں:

99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی

بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔

193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔

81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.

Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 2, 2026

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا خراب کارکردگی کے حامل فیلڈ افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کا حکم
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت