سیمینار کے مقررین کا بھارت سے مقبوضہ کشمیر سے اپنی افواج نکالنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
سیمینار میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے پر زور دیا گیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو درپیش سیاسی اور انسانی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے شہر باغ میں ایشین ریسورس فورم کشمیر نے آل پرائیویٹ سکول اینڈ کالج ایسوسی ایشن کے اشتراک سے ایک سمینار کا انعقاد کیا جس میں بھارت سے مقبوضہ جموں و کشمیر سے اپنی افواج نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ”بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز، آزاد جموں و کشمیر کا ردعمل” کے عنوان سے سیمینار میں مقامی اسکولوں اور کالجوں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔سیمینار میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے پر زور دیا گیا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو درپیش سیاسی اور انسانی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے سیاسی شعور اور پرامن مزاحمت کے فروغ میں تعلیمی اداروں کی اہمیت پر زور دیا۔ سیمینار میں اتحاد و اتفاق، تنقیدی سوچ اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مقررین نے تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل پر زور دیتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے فوری طور پر اپنی افواج کو نکال دے۔ سیمینار سے کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کی رہنما شمیم شال، ایشین ریسورس فورم کشمیر کی چیئرپرسن ڈاکٹر عابدہ رفیق، پرنسپل شیفیلڈ کالج باغ سردار شعیب خان، سماجی کارکن یاسین نور، پرنسپل الحیات انٹرنیشنل اسکول باغ عباس کاشر، سن رائز اسکول باغ کے پرنسپل بلال خان، سکول آف اقراء فائونڈیشن باغ کے پرنسپل راجہ بشارت اور دیگر نے خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر زور دیا کشمیر کے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔