مقبوضہ کشمیر: آپریشن بنیان مرصوص سے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے پوسٹرز آویزاں
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
فوٹو: کشمیر میڈیا سروس
مقبوضہ کشمیر میں آپریشن بنیان مرصوص سے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے پوسٹرز سامنے آگئے۔
وادی کے کئی مقامات پر لگائے گئے ان پوسٹرز پر پاکستانی پرچم آویزاں ہے جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تصاویر بھی ان پوسٹرز پر موجود ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں رافیل سمیت دیگر بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرانے والے جے 10 سی لڑاکا طیارے کی تصاویر بھی آویزاں کی گئی ہیں۔
دکاندار کا کہنا تھا کہ اس نے تمام مٹھائیوں کے ناموں سے لفظ 'پاک' ہٹا کر اس کی جگہ 'شری' رکھ دیا ہے، 'موتی پاک' کو 'موتی شری'، 'گوند پاک' کو 'گوند شری' اور 'میسو پاک' کو 'میسو شری' کا نام دیا ہے۔
پوسٹرز سری نگر اور دیگر علاقوں میں دیواروں، ستونوں اور کھمبوں پر چسپاں کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے، جس کا الزام بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگایا گیا اور بھارت نے 7 مئی کو پاکستان میں جارحیت کی گئی تھی، جس کا پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا اور بھارت کے 6 طیاروں سمیت متعدد ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔