مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک دبانے کیلئے مودی سرکار کے من گھڑت الزامات
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک دبانے کیلئے مودی سرکار کے من گھڑت الزامات WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز
سرینگر (سب نیوز)مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک دبانے کیلئے بھارتی ریاست کی طرف سے من گھڑت الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے من گھڑت نارکو دہشتگردی کا نیا ڈرامہ رچا لیا۔مودی سرکار کی جانب سے حریت پسندوں پر منشیات کے ذریعے دہشتگردی کا جھوٹا الزام لگانے کی سازش بے نقاب ہوگئی۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی ایس آئی اے نے 11 افراد پر منشیات کے ذریعے مبینہ دہشت گردی کی معاونت کی چارج شیٹ دائر کی ہے۔دی انڈین ایکسپریس نے بتایا کہ چارج شیٹ کے مطابق پاکستان میں مقیم حزب المجاہدین سے تعلق رکھنے والے دو پاکستانی بھی شامل ہیں۔
بھارتی اخبار کے مطابق حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور بشارت احمد بھٹ کے نام چارج شیٹ میں موجود ہیں۔ ایف آئی آر سب سے پہلے 2022 میں پولیس اسٹیشن ایس آئی اے جموں میں درج کی گئی تھی۔دی انڈین ایکسپریس نے کہا کہ مقدمہ ان دہشت گرد تنظیموں سے متعلق ہے جو پاکستان سے منشیات اسمگل کر کے کشمیر میں دہشت گردی کی مالی معاونت کرتی ہیں،جائز آمدنی نہ ہونے کے باوجود ملزمان نے منشیات کے ذریعے بھاری دولت کمائی۔
بھارتی اخبار نے بتایا کہ منشیات فروشوں نے مقامی نوجوانوں کو نشہ آور اشیا فروخت کرنے کے لیے استعمال کیا، بعض ملزمان نے منشیات فروخت کرنے کے لیے دیگر ملزمان کو بطور ملازم رکھا تھا۔ریاستی تحقیقاتی ادارے کے مطابق حزب المجاہدین کی سازش کا مقصد جموں و کشمیر کا امن خراب کرنا ہے، منشیات اور دہشتگردی کا جھوٹا بیانیہ، بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی جدوجہد پر وار کا نیا محاذ ہے۔پاکستان پر الزامات، بھارتی ریاست کی بوکھلاہٹ اور مقبوضہ کشمیر میں ناکامیوں کا چیختا ثبوت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربرکس اجلاس میں بھارت کو سفارتی محاذ پرناکامی، پاکستان کا ذکر کیے بغیر پہلگام واقعے کی مذمت برکس اجلاس میں بھارت کو سفارتی محاذ پرناکامی، پاکستان کا ذکر کیے بغیر پہلگام واقعے کی مذمت مخصوص نشستوں پر بحال اراکین کی تنخواہوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ دریائے چناب، جہلم، راوی اور ملحقہ ندی نالوں میں سیلاب کی وارننگ جاری بھارت کی جانب سے چین کے مذہبی معاملے میں مداخلت، چینی سفیر کا سخت ردِعمل آگیا خیبرپختونخوا حکومت گرانے کی بازگشت، امیر مقام کا بڑا بیان سامنے آگیا خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر حلف برداری کا معاملہ سنگین، اپوزیشن نے قانونی مشاورت شروع کردیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مودی سرکار من گھڑت
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔