Express News:
2026-06-03@03:12:55 GMT

معرکہ حق ابھی ختم نہیں ہوا

اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT

بھارت کے آپریشن سیندورکے جواب میںہماری افواج نے آپریش معرکہ حق ترتیب دیا اورجوبنیان مرصوص کی شکل میںمعرکہ کے آخری روزفتح وکامرانی سے ہمکنار ہوااور جس نے ساری دنیا میں ہماری دلیر افواج کی ایسی دھاک بٹھادی جس کی دھوم اور گونج اگلے کئی برسوں تک عالمی فضاؤں میںگونجتی رہے گی۔

دنیاحیران وششدر ہے کہ ایک غریب ملک جو بھارت جیسے سات گنابڑے ملک کوجو معاشی طور پر بھی پاکستان کے مقابلے میں ایک مستحکم پوزیشن رکھتا ہے صرف چند گھنٹو ں کی لڑا ئی میں اس طرح زیر کردے گا کہ وہ امریکی حکمرانوں سے سیز فائر کروانے کی التجا کرنے لگے۔اس کی اس بے چارگی اورلاچاری پراس کے اپنے لوگ بھی تعجب کا اظہارکرنے لگے۔ وہ اس زعم میںمبتلا تھے کہ پاکستان اُن کے آگے کو ئی حیثیت نہیںرکھتا اوروہ جب چاہیں اس پر قبضہ کرسکتے ہیں۔

طاقت کے زور پر وہ آج تک جس طرح اپنے ارد گرد کے ممالک پررعب جماتے رہے ہیں اسی طرح وہ پاکستان کو بھی گھٹنے ٹیک دینے پرمجبور کرسکتے ہیں۔اُن کا خیال تھا کہ چونکہ سابقہ مشرقی پاکستان کی طرح اس وقت بھی پاکستان کے لوگ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے نہیں رہیںگے اوروہ 971 1 کی طرح ایک بار پھر پاکستا ن پر غلبہ حاصل کرکے اسے سرنگوں کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مگر نہیں آج پاکستان کی وہ صورتحال ہرگز نہیں ہے۔

یہاں بے شک ایک سیاسی پارٹی کو کچھ گلے شکوے ضرور ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے کہ قوم سیاسی اختلاف کی وجہ سے اپنی ہی افواج کی دشمن بن جائے۔ دوسال پہلے کچھ سیاسی عناصر نے وطن دشمنی کا کھیل ضرور کھیلا تھا مگر رفتہ رفتہ انھیں سمجھ آچکی ہے کہ وہ کسی کے اکسانے پرغلطی کربیٹھے تھے اور وہ شاید اسی وجہ سے نادم بھی ہیںاورمعافی کے طلبگار بھی۔چند سو یاہزار افراد کی فتنہ انگیزی کو سارے ملک کے عوام کی سوچ نہیں کہاجاسکتا ۔ اس ملک کے عوام آج بھی اپنی افواج سے ویسی ہی محبت کرتے ہیں جس کااظہار ہم نے 1965 ء کی جنگ میں دیکھ چکے ہیں۔بنیان مرصوص کی کامیابی کا جشن ثابت کرتا ہے کہ یہ قوم کس طرح اپنی پاک افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

موجودہ چیف کو فیلڈ مارشل کا اعزاز ملنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ قوم اپنے سپوتوں سے کس طرح والہانہ محبت کرتی ہے۔وہ ایک لمحہ ضایع کیے بناء اپنی فوج کی دلیری اورجانفشانی کو نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ انھیںاس کا صلہ بھی عطاکرتی ہے۔ جو جذبہ ہم نے آج سے ساٹھ سال قبل 1965 ء میں دیکھا تھا وہی جذبہ ہم نے آج 2025 ء میں ایک بار پھر دیکھاہے۔ا لحمد اللہ خداوند کریم نے ہمیں اپنے سے بہت بڑے دشمن پر صرف دوچار دنوں میںفتح عطاکی۔ ہم اس پراپنے رب کاجتنا بھی شکراداکریں کم ہے۔کچھ دن پہلے تک ہم سوچ بھی نہیںسکتے تھے کہ ڈی فالٹ کرجانے کی حدوں کو چھونے والا یہ غریب ملک اس طرح کامیاب وسرخرو ہوجائے گا۔یہ سب اس اللہ تعالیٰ کاکرم واحسان ہے کہ اس نے ہم پررحم فرمایا اورہمیں اپنی غیبی امداد کے ذریعے فتح ونصرت سے ہمکنار کیا۔

فتح وکامرانی کے اس دلکش موقع پرہم اپنے آرمی چیف اورفیلڈ مارشل کی قابلیت و اہلیت اورانکے نیک سیرت ہونے کا اعتراف کیے بنا بھی نہیں رہ سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ جس قوم کے حکمراں نیک اور پاکباز نہیں ہونگے اُس قوم کو اس کی مدد ونصرت حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ ہم اگر 1971 کی شکست کے اسباب و وجوہات کاغیرجانبدارانہ جائزہ لیں تو ہمیں اپنی اِن خرابیوں کااحساس ضرور ہوجائے گا۔ اس دنیا میں دیکھاجائے تو مسلمانوں کو ہمیشہ اسی وقت شکست و نامرادی سے دوچار ہونا پڑا جب وہ اپنے رب کے ناشکرے ہوکراس کی نافرمانی کرنے لگے۔آج بھی اگر مسلمان ملکو ں کو جہاں جہاں ناکامیوں کاسامنا ہے اس کی بڑی وجہ اپنے دین سے دوری ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری حالت پررحم وکرم فرمائے اورہمیں اس کے دین پرمکمل طور پرچلنے کی توفیق عطافرمائے۔ )آمین(

معرکہ حق ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ دشمن اپنی ہزیمت اورشکست کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے ، وہ کسی وقت بھی دوبار حملہ آورہوسکتاہے۔ اسے اپنے ہی ملک میںشدید تنقید کاسامنا ہے۔ صوبہ بہار کے جس الیکشن کوجیتنے کی غرض سے اس نے یہ سارا کھیل رچایاتھا وہ الیکشن ابھی ہونا باقی ہے ۔ اس نے اگر اس شکست پرخاموشی اختیارکرلی تووہ یہ الیکشن شاید ہی جیت سکے۔اس لیے ہمیں اس کے اس داؤ کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔ہنگامی حالت کااختتام ابھی نہیں ہوا ہے۔ قوم فتح وکامرانی کی خوشیوں میں یہ نہ بھول جائے کہ دشمن اپنی شکست کو ابھی بھولا نہیں ہے۔وہ اپنی خجالت اورہزیمت مٹانے کے لیے ایک وار ضرور رکرے گا۔خود ہمارے یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں اپنی فوج کی یہ کامرانی ہضم نہیں ہورہی۔ وہ سخت اضطراب و بے چینی میں ہیںکہ یہ کیاہوگیا۔اُن کے یوٹیوب پرکیے گئے تبصرے خود اُن کامنہ چڑا رہے ہیں۔

وہ اس آسرے پربیٹھے تھے کہ اس معرکہ حق میں ہماری فوج شکست سے دوچار ہواور وہ اس کاسیاسی فائدہ حاصل کرپائیں۔ مگر اُن کے یہ سارے خواب ریزہ ریزہ ہوگئے۔ہماری افواج کو اس وقت صر ف ایک بڑے دشمن ہی سے نہیںلڑنا ہے بلکہ اپنے اندر کے دشمنوں سے بھی لڑنا ہے ۔ ایک طرف بلوچستان کی شورش سے نمٹنا ہے تو دوسری طرف انتشار وفساد برپاکرنے والوں سے نبرد آزما ہوناہے۔ملک کے اندر دہشت گردی اوراس کے سرپرستوں کو بھی قابو کرنا ہے تو ساتھ ہی ساتھ اقتصادی محاذ پربھی حکومت کا ہاتھ بٹانا ہے۔فیلڈ مارشل کااعزاز صرف ایک محاذ پرشجاعت دکھانے کے صلہ میں نہیں دیاگیا ہے بلکہ زندگی کے دوسرے کئی شعبوں میں بھی زبردست کارکردگی دکھانے کے سبب دیاگیا ہے۔

تنقید کرنے والوں کو دشمنوں کی طرح اس اعزاز پر بھی تکلیف ہورہی ہے اوروہ سوشل میڈیا پراپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے۔ معرکہ حق کے اہداف میں یہ اندرونی دشمن بھی شامل ہونے چاہیے ۔ ہماری دلیر افواج پہلے بڑے دشمن سے مکمل طور پرنمٹ لے پھر دوسرے محاذوں کی باری ہے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیںکہ وہ ایک بار پھر اپنی جارحا نہ کارروائیوں سے اس ملک کو انتشارو فسادات کی آگ میں جھونک کر اس کی ترقی و خوشحالی کاراستہ روک لیںگے تو وہ سراسر غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اب ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے ،ملک اور ریاست اب مضبوط ہاتھوں میں ہے۔

گزشتہ دس بارہ سالوں سے جو انتشار پھیلانا تھا وہ پھیلایا جاچکا اب دوسروں کی باری ہے جو اس ملک کو ترقی و خود انحصار ی کی منزلوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ سیاسی سیز فائر کی تمنا رکھنے والوں کو پہلے اپنے طرز عمل کو درست کرنا ہوگا۔ دشمنوں کی ایماء پراپنی فوج کے خلاف جتنا زہر اگلنا تھا وہ اگلاجاچکا ہے۔ خداوند کریم نے اُن کی ساری سازشیں اورکاوشیں ناکام کردی ہیں۔

دوتین برسوں میں اپنی فوج کو جتنا ڈی مورالائزڈ کیاگیا تھا اللہ تعالیٰ نے چند دنوں میں اس کاازالہ کرکے اسے سرخروئی کی عظمتوں پرپہنچادیا ہے۔اپنے ہی ملک کے اداروں کے خلاف منفی سوچ اوررجحان رکھنے والوں کے لیے اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ وہ اب اچھے بچے بن جائیں۔و عدہ کریں کہ اس ملک کو وہ اب آگے بڑھنے دینگے ۔ جمہوری حق کی آڑ میں اس ملک کوفسادات اورہنگاموں کے سپرد نہیں کرینگے تو شاید انھیں کوئی ریلیف دیاجاسکتا ہے ورنہ یاد رکھیں کہ اب اس ملک کی کمان ایک انتہائی شریف اورنیک سیرت شخص کے ہاتھوں میں ہے جوسب کچھ معاف کرسکتا ہے وطن فروشی یادشمنی نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اللہ تعالی اس ملک کو معرکہ حق اپنی فوج نہیں ہے تھا وہ ملک کے

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق