ہائر ایجوکیشن کمیشن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے لیے اشتہار جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
کراچی:
ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات کی اکیڈمکس کو ریگولیٹ کرنے والی اتھارٹی اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو ملازمت سے فارغ کیے جانے کے بعد صورتحال انتہائی دلچسپ ہوگئی۔
ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی برطرفی چیئرمین ایچ ای سی کی مدت ملازمت پوری ہونے سے محض دو ماہ قبل غیر تسلی بخش کارکردگی کو بنیاد بناتے ہوئے کی گئی ہے۔
جس کے بعد فارغ کیے گئے گریڈ 21 کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء القیوم اپنی برطرفی کے معاملے پر ایچ ای سی کے خلاف عدالت چلے گئے ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی برطرفی کا کیس ییر 26 مئی کو فوری سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی برطرفی کے ساتھ ہی ایچ ای سی نے مذکورہ آسامی کا اشتہار اتوار 25 مئی کو جاری کردیا ہے اور امیدواروں سے درخواستیں بھی طلب کرلی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ملازمین کو برطرف کرنے سے روک دیا
کیونکہ ایچ ای سی چاہتی ہے کہ عدالت کا کوئی بھی فیصلہ آنے سے قبل اس اسامی پر اسکروٹنی اور انٹرویوز کے بعد تقرری کردی جائے ،بتایا جارہا ہے کہ وہ حلقے اس اشتہار کی راہ میں رکاوٹ ہیں جو موجودہ چیئرمین ایچ ای سی کو ایک بار پھر آئندہ مدت کے لیے ایکسٹنشن دلانا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں متعلقہ حلقوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ایچ ای سی کے ترمیم شدہ ایکٹ میں چیئرمین کے عہدے کی مدت 2 سال ہے جبکہ موجودہ چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کو وزیر اعظم پاکستان نے 1 سال کی ایکسٹنشن دی تھی اور ایکٹ میں درج رولز کے مطابق انھیں ابھی مزید ایک سال کی ایکسٹنشن ملنا باقی ہے، لہذا کسی اشتہار کی ضرورت نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: کرم میں بے امنی؛ عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اسکالرشپ انٹری ٹیسٹ روک دیا
دوسری جانب چیئرمین ایچ ای سی کی گزشتہ تین برسوں پر محیط کارکردگی پر معترض حلقے بھی ہیں جو ایکٹ کا حوالہ دے کر کہتے ہیں ایکٹ میں چیئرمین کے لیے 2 مدتوں term کا ذکر ہے اور چیئرمین ایچ ای سی پہلے ہی تیسری ٹرم گزار رہے ہیں، اسی وجہ سے وزیر اعظم پاکستان نے انھیں پوری مدت کے بجائے محض ایک سال کی ایکسٹنشن دی تھی، تاہم اب دیکھنا ہوگا کہ وزیر اعظم پاکستان کس دلیل پر قائل ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایگزیکٹیو ڈائریکٹر چیئرمین ایچ ای سی کے لیے
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں