امریکا، ساؤتھ کیرولائنا کے بیچ ٹاؤن میں فائرنگ، 11 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
ہورے کاؤنٹی پولیس کے مطابق یہ واقعہ رات 9:30 بجے کے قریب انٹرا کوسٹل واٹر وے کے نزدیک ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ریاست ساؤتھ کیرولائنا کے بیچ ٹاؤن لٹل ریور میں اتوار کی رات ایک خوفناک فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ہورے کاؤنٹی پولیس کے مطابق یہ واقعہ رات 9:30 بجے کے قریب انٹرا کوسٹل واٹر وے کے نزدیک ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا۔ لٹل ریور، میرٹل بیچ سے تقریباً 32 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ایک چھوٹا سا ساحلی قصبہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ زخمی افراد کو نجی گاڑیوں کے ذریعے بھی اسپتال لے جایا گیا اور یہ ایک جاری تفتیش کا معاملہ ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس علاقے سے دور رہیں تاکہ ریسکیو اور سکیورٹی ادارے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ عینی شاہدین کی بنائی گئی ویڈیوز میں متعدد پولیس گاڑیاں اور ایمبولینسیں جائے وقوعہ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، فائرنگ کی اطلاع پر موقع پر پہنچنے والے نارتھ میرٹل بیچ پولیس کے ایک اہلکار نے غلطی سے اپنی ٹانگ میں گولی مار لی۔ پولیس کی ترجمان لورین جیسسی کے مطابق، زخمی افسر کی حالت مستحکم ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔