چین میں تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اور ہنر مند افراد کا ’’سنہرا مثلث‘‘ WhatsAppFacebookTwitter 0 26 May, 2025 سب نیوز

بیجنگ :چین میں تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اور ہنر مند افراد کی “تھری ان ون” حکمت عملی ملک کی جدید کاری کے عمل میں نمایاں اہمیت کی حامل ہے۔اس حکمت عملی کی روشنی میں تعلیم کے ذریعے ہنر مند افراد کی تشکیل ، ہنر مند افراد کے ذریعے ٹیکنالوجی کا فروغ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے دوبارہ تعلیم میں مدد کا ایک مثبت سائیکل وجود میں آتا ہے۔ چینی طرز جدیدیت کے بنیادی معاون نظام کے طور پر، تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی ہنر مند افراد کی “تھری ان ون” حکمت عملی کا نفاذ بین الاقوامی مسابقت سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ قومی احیاء کا ناگزیر انتخاب بھی ہے۔

تعلیم ایک بنیاد کی طرح ہے، جو ملک کی ترقی کی بنیاد کو مستحکم کرتی ہے۔ چین نے دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام قائم کیا ہے۔ ایک جانب، چین تعلیمی وسائل کی تقسیم کو بہتر بنا رہا ہے، عوامی سطح پر علم اور مہارت کو عام کررہا ہے، اور بتدریج شہری اور دیہی، علاقائی، تعلیمی اداروں اور گروہوں کے درمیان خلیج کم کررہا ہے؛ دوسری جانب، کلیدی شعبوں میں ہنر مند افراد کو تیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جہاں ہنر مند افراد کی شدید کمی ہے۔ آج، چین میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی کے شعبے کے فارغ التحصیل افراد کی تعداد عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے، اور ٹیکنالوجی میں انسانی وسائل کی مجموعی تعداد 11.

2 کروڑ سے زیادہ ہے، جو دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی ایک انجن کی مانند ہے، جو قومی معیشت کی ترقی کو مستقل بنیاد پر توانائی فراہم کرتی ہے۔

کئی سالوں سے، چین نے تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جو 2024 تک3.6 ٹریلین یوآن (تقریباً 500 ارب ڈالر) تک پہنچ چکا ہے۔ یہ باضابطہ سرمایہ کاری نہ صرف چین میں 26 عالمی ٹیکنالوجی کے سو بہترین کلسٹرز (2024 میں) کی بنیاد رکھتی ہے، بلکہ ہر چینی شہری کو سائنس و ٹیکنالوجی کی تیز ترقی کا ذاتی تجربہ بھی فراہم کرتی ہے۔ ہنر مند افراد ایک مرکز کی مانند ہیں، جو تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مثبت سائیکل کو جوڑتے ہیں۔ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اور ہنر مند افراد کے اس “سنہرے مثلث” کی فعالیت کا راز انتظامی ربط میں ہے۔

حکومت ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، کمپنیاں عملی منظر نامے پیش کرتی ہیں، اور اعلیٰ تعلیمی ادارے درکار قوتیں فراہم کرتے ہیں، جو منفرد “تعلیم و صنعت و تحقیق کے انضمام” کے ماحولیاتی نظام کی تشکیل کرتے ہیں۔ چین کی تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اور ہنر مند افراد کا “سنہرا مثلث” ایک بند اور الگ تھلگ نظام نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ ایک کھلا، باہمی تعاون کا، اور متحرک ترقی پذیر جدیدیت کا ابھرتا ماحولیاتی نظام ہے۔ چین ۔ یورپ اسپیس کے مشترکہ تربیتی پروگرام، چین اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کی مشترکہ لیبارٹریز جو ٹیکنالوجی کی رکاوٹوں کو توڑتی ہیں، اور “بیلٹ اینڈ روڈ” کے شریک ممالک کے نوجوان جنہوں نے ڈیجیٹل معیشت سیکھنے کے لئے چین کا دورہ کیا ہے. یہ منظرنامے چین کی دانش اور دنیا کی ضروریات میں گہری ہم آہنگی واضح کرتے ہیں۔ نئے تاریخی نقطہ پر کھڑے ہو کر، مسلسل مستحکم ہوتا “سنہرا مثلث” زبردست توانائی فراہم کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف چین کو جدید ملک کی جانب بڑھا رہا ہے بلکہ دنیا کی ترقی میں مشرقی دانشورانہ شراکت بھی فراہم کرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلاول بھٹو عوامی مینڈیٹ سے ملک کے اگلے وزیراعظم ہوں گے، صدر زرداری ڈیجیٹل پاکستان کی جانب بڑا قدم، بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کیلئے 2000میگاواٹ بجلی مختص پاکستان بزنس فورم کا حکومت سے خطے کی صورتحال کے پیش نظر گروتھ بجٹ لانے کا مطالبہ گزشتہ 2سالوں میں پاکستان کا ریونیو تقریبا دگنا ہوگیا، آئی ایم ایف پاکستان کوفیٹف کی گرے لسٹ میں شامل کروانے کی بھارتی سازش بے نقاب چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے چائنا میں خریدیں،2025 گریٹر بے ایریا کھپت سیزن کی میڈیا مہم کا آغاز کر دیا گیا چین کے وزیر اعظم اور انڈونیشیا کے صدر کی چائنا- انڈونیشیا بزنس عشایئے میں شرکت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سائنس و ٹیکنالوجی اور ہنر مند افراد ہنر مند افراد کی میں تعلیم کرتی ہے چین میں رہا ہے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم