پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مجھے امید ہے کیس فکس ہو جائے گا اور بانی پی ٹی آئی عید سے پہلے رہا ہوں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ورکرز اپنے جذبات قابو میں رکھیں، ہم بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، ہم نے دھرنے اور احتجاج بھی کیے، ہم اسمبلی میں بھی بات کر رہے ہیں۔بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ورکرز کے سوالات اٹھانا ٹھیک ہے، ورکرز کے جذبات کی قدر کرتے ہیں، کوئی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا ہے، عمران خان نے دو سال جیل میں کیوں گزارے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ سے مدد مانگتے ہیں، ہر مشکل میں اللہ سے مدد مانگتے ہیں اور اللہ راستہ نکالے گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ دو سالوں سے ہمارے لوگ برداشت کرتے کرتے تھک گئے اور ججز بھی فیصلہ لکھتے لکھتے تھک گئے ، ہم کوشش کر رہے ہیں بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگیں اور میرٹ پر فیصلے ہوں۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس نے ہمارے بیرسٹر گوہر اور لطیف کھوسہ کو کمٹمنٹ کی تھی کہ رواں ہفتے عمران خان کی درخواستیں مقرر ہونی ہیں ، قائم مقام چیف جسٹس نے وعدہ کیا ہے کسی عام آدمی نے نہیں اور قائم مقام چیف جسٹس کے وعدے میں کوئی بات تو ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کسی کے لیے انصاف کے دروازے بند ہونے سے عدم استحکام ہوگا، سائل عدالت میں انصاف لینے آتے ہیں اور اگر سائل کو انصاف فراہم نہ کیا جائے تو یہ زیادتی ہے۔ ہم آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں، ہم پریشر ڈالنے کے لیے آتے رہیں گے۔شبلی فراز نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی مرہون منت ہے، دونوں جماعتوں نے اپنی سیاست تباہ کر دی ہے، عمران خان کی رہائی ہوتے ہی ان دونوں کی حکومت ختم ہو جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہیں اور

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے