نارووال: شوہر کے تشدد سے بیوی جاں بحق، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
صوبہ پنجاب کے شہر نارووال میں شوہر کے مبینہ تشدد سے بیوی جاں بحق ہو گئی، پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ بدو ملہی کے علاقے میں پیش آیا، ملزم کے خلاف مقتولہ کی بہن کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
درج کی گئی ایف آئی آر کے متن کے مطابق بہنوئی کے کسی دوسری خاتون سے تعلقات تھے جس پر اس کی بہن سے بہنوئی کا جھگڑا رہتا تھا، بہنوئی اکثر اس کی بہن پر تشدد کرتا تھا۔
کراچی میں شوہر نے بیوی کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا۔
متن کے مطابق گزشتہ روز بھی بہنوئی نے اس کی بہن کو لاتوں اور مکوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے باعث وہ اسپتال پہنچ کر دم توڑ گئی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، گرفتار ملزم سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔