وزیرِ اعظم 2 روزہ دورہ ایران کیلئے تہران پہنچ گئے، مہرآباد ائیر پورٹ پر شاندار استقبال
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
سٹی 42 : وزیرِ اعظم شہباز شریف اپنے دو روزہ دورہ ایران کیلئے تہران پہنچ گئے.
مہرآباد ائیر پورٹ تہران پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی، ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم، پاکستان کے ایران میں سفیر مدثر ٹیپو اور اعلی سفارتی اہلکاروں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا.
آئی جی پنجاب کا لاہور قلندر کو جیت کی مبارکباد
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر, وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی, وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڈ اور معاون خصوصی وزیر اعظم سید طارق فاطمی دورہءِ ایران میں وزیرِ اعظم کے ساتھ وفد میں شامل ہیں.
وزیرِ اعظم اپنے دورے کے دوران ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کیلئے سعدآباد پیلس تہران پہنچیں گے جہاں وزیرِ اعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا جسے پاکستان ٹیلی ویژن نشر کرے گا. بعد ازاں وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد کی ایرانی صدر اور انکے وفد کے ساتھ ملاقات ہوگی. ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعاون کے فروغ اور پاکستان پر بھارت کی جانب سے مسلط کردہ حالیہ جنگ میں پاکستان کی حمایت و جنوبی ایشیاء میں امن کی کوششوں کیلئے وزیرِ اعظم ایرانی صدر و عوام کا شکریہ ادا کریں گے.
قلندری چھا گئی ، پی ایس ایل ٹرافی لے گئی
وزیرِ اعظم اور پاکستانی وفد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ ملاقات کریں گے جہاں دوطرفہ امور کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی امور پر گفتگو ہوگی.
وزیرِ اعظم و پاکستانی وفد ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے میں بھی شرکت کریں گے.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاکستانی وفد اور پاکستان ایرانی صدر کے ساتھ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔