سعودی حکومت کی ملک میں شراب کی اجازت کی رپورٹس کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
ریاض(نیوز ڈیسک)سعودی عرب کے حکومتی ذرائع نے مملکت میں شراب کے حوالے سے حالیہ میڈیا رپورٹس کی تردید کردی۔
عرب نیوز کے مطابق متعدد غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے کیے جانے والے دعووں میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب نے سنہ 2026 سے شراب کی فروخت کا لائسنس دینے کا منصوبہ بنا لیا ہے تاہم یہ دعوے غلط ہیں۔
ان دعووں میں متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے اور یہ سعودی عرب میں موجودہ پالیسیوں یا ضوابط کی عکاسی بھی نہیں کرتے۔
سعودی عرب، سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے کے اپنے وژن کے تحت ایک منفرد اور ثقافتی طور پر عمیق تجربہ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس نقطہ نظر کو بین الاقوامی زائرین کی طرف سے اچھی طرح سے پذیرائی ملی ہے جو مملکت کے بھرپور ورثے اور متنوع قدرتی مناظر کو دیکھنے آتے ہیں۔
غیر مسلم سفارت کاروں کے لیے شراب کے ضوابط کے حوالے سے ذرائع نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے ایک نیا فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کا مقصد سفارتی کھیپ کے غیر مجاز استعمال کو روکنا ہے۔
ان نئے اقدامات کے تحت اب غیر مسلم ممالک کے سفارت خانوں کو سفارتی کھیپوں میں شراب اور دیگر اشیا درآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت ریگولیٹری ہدایات کے تحت اس طرح کے سامان تک کنٹرول شدہ رسائی ممکن ہے۔
ذرائع نے سعودی عرب کے سیاحت کے شعبے کی نمایاں ترقی کے حوالے سے کہا کہ سنہ 2024 میں ملک نے 29.
مزید برآں ملکی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے سیاحتی اخراجات 283.8 بلین سعودی ریال تک پہنچ گئے جس میں غیر ملکی زائرین نے 168.5 بلین ریال کا حصہ ڈالا جس سے قومی معیشت کی حمایت میں سیکٹر کے کردار کو نمایاں کیا گیا۔
مزید پڑھیں:اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم استعفیٰ دینے کے لیے تیار، اعظم سواتی کے حوالے سے اہم سوال پوچھ لیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے حوالے سے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔