پیپلز پارٹی کے کارکنان کے پی اسمبلی کے سامنے جمع ہوگئے اور خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف احتجاج شروع کردیا ساتھ پی پی نے صوبے بھر کے کارکنوں کو پشاور پہنچنے کی ہدایت کردی۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے صوبہ بچاؤ ریلی کے دوران وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش پر پولیس نے شیلنگ کردی، مظاہرین نے پتھراؤ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے کیمپ کو آگ لگادی اور ریڈ زون کا گیٹ توڑ دیا۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے مردان سے صوبہ بچاؤ ریلی نکالی گئی، متعدد گاڑیوں پر مشتمل ریلی ریلوے گراؤنڈ نوشہرہ روڈ سے پشاور روانہ ہوئی جس کی قیادت ڈویژنل صدر عمر فاروق خان ہوتی نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے مختلف بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر کرپشن کے خلاف نعرے درج تھے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان کے پی اسمبلی کے سامنے جمع ہوگئے اور خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف احتجاج شروع کردیا ساتھ پی پی نے صوبے بھر کے کارکنوں کو پشاور پہنچنے کی ہدایت کردی۔

پی پی پی ورکرز نے ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کی جس پر ریڈ زون کے دروازے بند کردئیے گئے جواب میں مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی چوک کو بلاک کردیا جس پر خیبر روڈ ٹریفک کے لیے دونوں اطراف سے بند ہوگیا۔ احتجاج میں پی پی پی صوبائی صدر ہمایون خان، احمد کریم کنڈی، محمد علی شاہ باچا اور دیگر بھی پہنچ گئے۔ مظاہرین نے ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں روکنے کے لیے شیلنگ شروع کردی۔ مظاہرین نے ریڈ زون کا حصار توڑ کر وزیر اعلی ہاؤس جانے کی کوشش کی اس دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ مظاہرین نے پی ٹی آئی کے ایک کیمپ کو بھی اسمبلی چوک میں آگ لگادی اس دوران پی ٹی آئی کے کارکنان کیمپ چھوڑ کر چلے گئے، بعدازاں پی پی ورکرز نے ریڈ زون کا گیٹ توڑ دیا۔

پی پی رہنما احمد کریم کنڈی نے کہا کہ وسائل پر اختیار، پختونوں کو شناخت پیپلز پارٹی نے دی، یہ صوبہ پیپلز پارٹی بچائے گی یہاں کرپشن کی داستانیں رقم ہورہی ہیں، کرپٹ حکومت عوام کے پیسوں سے جیبیں بھر رہی ہے، جلد وزیر اعلی ہاؤس کی طرف مارچ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی مظاہرین نے نے ریڈ زون کی کوشش

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن