بجلی چوری پر مقدمات کے اندارج سے متعلق کریمنل بل 2024 کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا، حکومتی جماعت نے بھی بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے بل مسترد کیا گیا۔

ارکان کی رائے تھی کہ نئے بل کے ذریعے عوام کو ذلیل و خوار کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کی  زرتاج گل نے کہا کہ پہلے بڑے بڑے چوروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس ظالمانہ بل کی مخالفت کرتے ہیں بلا وجہ عوام کو ہتھکڑیاں نہ لگائی جائیں۔

پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کراچی میں میٹر ایک شخص کے نام پر نہیں ہوتا، بجلی کمپنیاں پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کریں۔ ہم اس بل کو بغیر اصلاحات کے منظور نہیں کرسکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی سسٹم نہیں ہے، کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ ہم کسی صورت اس کو پاس نہیں کریں گے، ہم کسی کو ہتھکڑی نہیں لگنے دیں گے۔

پیپلز پارٹی کے نبیل گبول کا کہنا تھا کہ بجلی چوری میں ایک چوکیدار کو گرفتار کیا گیا، بجلی آپ دیتے نہیں ہیں، عوام کو کیا منہ دکھائیں۔

یہ بھی پڑھیے بجلی چوری کی روک تھام ، سکیننگ میٹرز کی مانیٹرنگ کی ہدایت گزشتہ جولائی سے فروری تک ساڑھے7 ارب کی بجلی چرانے والے 23119 افراد گرفتار، دستاویز، پاور ڈویژن ایک سال 12 ارب روپے سے زائد کی بجلی چوری کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ کراچی میں 18، 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، بجلی 2 بندے چوری کرتے ہیں لیکن کے الیکٹرک اس پورے علاقے کی بجلی کاٹ دیتی ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا بجلی چوری ہو رہی ہے، ہم نے چوری کو روکنا ہے۔ اس معاملے پر پوائنٹ اسکورنگ نہ کی جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر کوئی بندہ اس گھر میں نہیں رہ رہا تو اس کے خلاف کیسے اندراج مقدمہ ہوگا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بجلی چوری نے کہا

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ