مسافروں سے ناجائز کرایہ وصولی کیخلاف کارروائی کی جائے گی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
عید الاضحی پر زائد کرایہ وصولی کے خلاف سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی ہدایات پر محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ حکومت سندھ کی جانب سے مہم شروع کر دی گئی ہے۔ اس ضمن میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے آئی جی سندھ پولیس، تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اور ٹرانسپورٹ و ٹریفک پولیس کے اعلی افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اپنے علاقوں میں زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عید کا موقع خاندانوں کے ساتھ گزارنے کا ہوتا ہے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے، کسی کو بھی عید کے موقع پر عوام کا استحصال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ہزاروں افراد عید منانے کے لیے سندھ بھر میں اپنے پیاروں کے پاس سفر کرتے ہیں، بعض ٹرانسپورٹرز کرایوں میں من مانا اضافہ کر دیتے ہیں، جو عام شہریوں پر بوجھ اور ناقابل قبول ہے۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن متعلقہ اداروں کو سختی سے ہدایت دی ہیں کہ زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف فوری اور مثر کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف جرمانے، لائسنس معطلی، اور روٹ پرمٹ کی منسوخی جیسے اقدامات کیے جائیں گے، عوام الناس سے گزارش ہے کہ اگر ان سے کوئی زائد کرایہ وصول کرے تو فوری شکایت درج کرائیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شکایات کے لیے ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے شکایات درج کرنے کا نظام قائم کر دیا ہے، تمام شہری واٹس ایپ نمبر 0300-3495375 پر اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں، نیز، تمام افسران کو روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔