لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز نے پیدائشی طور پر یا کمسنی میں ذیابیطس ٹائپ ون میں مبتلا کمسن مریض بچوں کے لئے ’’سی ایم انسولین برائے ذیابیطس‘‘ کے منفرد پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خود جاکر ’’سی ایم انسولین کارڈ‘‘ پروگرام لانچ کیا۔ مریم نواز پاکستان پوسٹ کے رائیڈرز کے ہمراہ خود انسولین کارڈ لے کر کمسن بچوں کے گھروں میں پہنچ گئیں۔ سبزہ زار کیو بلاک کے واسع عدنان کو گھر جاکر انسولین کارڈ دیا۔  جمیل ٹاؤن جاکر زینب وحید اور زین شہزاد کو بھی ’’سی ایم انسولین کارڈ‘‘ دیا۔ وزیراعلیٰ نے واسع، زینب اور زین کو انسولین،گلوکو میٹر بی ایس آر سٹرپس اور نیڈل کا باکس بھی دیا۔ وزیر اعلیٰ  کمسن واسع عدنان کی دادی سے گلے ملیں اور دیگر اہل خانہ سے بھی سلام لیا۔ مریم نواز شریف نے کمسن مریض واسع عدنان کا گال تھپتھپایا اور کہا کہ آپ بالکل اینجل لگتے ہو۔ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا واسع پیدائشی طور پر ذیابیطس کا شکار ہے۔ وزیر اعلیٰ نے پانچ سالہ واسع عدنان کو کار بھجوانے کا وعدہ بھی کیا۔ مریم نواز نے زینب وحید سے بات چیت کی اور اظہار شفقت کیا۔ زین شہزاد کی آنکھوں کے چیک اپ اور علاج معالجے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعلیٰ کی آمد پر چھتوں اور گلیوں کے اطراف میں عوام کا ہجوم آمڈ آیا۔ بچیوں نے پر پھول نچھاور کیے اور ان کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعلیٰ نے بچیوں کی درخواست پر تصاویر بھی بنوائیں۔ بزرگ خواتین نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ اپنی بیٹی کے انتظار میں صبح سے کھڑی ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو بلندیوں پر لے جائے۔ مریم نواز نے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جتنی آپ کو اپنے بچوں کی فکر ہے اس سے کہیں زیادہ مجھے آپ کے بچوں کی فکر ہے۔ ذیابیطس میں مبتلا بچوں کی تکلیف اور پریشانی سمجھ سکتی ہوں۔ بچوں کے لئے فری انسولین پروگرام ماں کے دل کی آواز پر شروع کیا گیا۔ صحت مند پنجاب ویژن کے تحت دوا یا انسولین خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے بچوں تک حکومت خود پہنچے گی۔ بچوں کی صحت سب سے زیادہ اہم ہے۔ پہلی مرتبہ بچوں کو انسولین کے ساتھ گلو کو میٹر، ٹیسٹ سٹرپس بھی دے رہے ہیں۔ بچے قوم کا مستقبل ہے ان کے لئے سارے وسائل حاضر ہیں۔ بچوں میں ذیابیطس کے مرض کا تیزی سے پھیلاؤ قابل فکر امر ہے۔ مریم نوازشریف کو انسولین کارڈ پروگرام کے بارے میں بتایا گیا کہ فری انسولین پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں 1500بچوں کو گھر کی تک دہلیز پر انسولین فراہم کی جائے گی۔ پاکستان پوسٹ کے رائیڈر خصوصی ایپ پر انسولین کارڈ سکین کرکے تصدیق کریں گے۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچے این سی ڈی کلینک، مریم نواز ہیلتھ کلینک یا ہیلتھ لائن ایپ 1033 پر رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچوں کے لئے ڈسٹرکٹ یا تحصیل ہیڈکوارٹر میں سہ ماہی فالو اپ چیک اپ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انسولین کارڈ واسع عدنان مریم نواز میں مبتلا وزیر اعلی بچوں کی بچوں کے سی ایم کے لئے

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں