صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرے گی، میر سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی—فائل فوٹو
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں کان کنی، شمسی توانائی اور آئل اینڈ گیس سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کےلیے سازگار ماحول فراہم کرے گی۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پیٹرن انچیف یونائیٹڈ بزنس گروپ سے کوئٹہ میں ملاقات میں کیا۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ریاست بہت اہم ہے، بلوچستان کو گندی سیاست سے دور رکھیں۔
اس موقع پر گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سانحہ خضدار کے شہداء کی روح کے ایصال ثواب کےلیے دعا بھی کی گئی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں اکنامک زونز کی ترقی میں ایف پی سی سی آئی اور یو بی جی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے ہمیشہ قانونی تجارت کی حوصلہ افزائی اور سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ سرمایہ کار صوبے میں صنعتیں قائم کریں، اس سے صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میر سرفراز بگٹی صوبائی حکومت
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔