اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 مئی 2025ء ) ملک میں یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ظاہر کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں یکم جون 2025 سے پیٹرول کی قیمت کم ہوسکتی ہے، صارفین کو انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرنے کے لیے متوقع اقدام کے تحت وفاقی حکومت یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر سکتی ہے، ایندھن کی قیمتوں میں متوقع نظرثانی اس وقت سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، یہ کمی اس امکان کے بعد سامنے آئی جس میں کہا گیا اوپیک پلس 31 مئی کو اپنی آئندہ میٹنگ کے دوران تیل کی پیداوار میں اضافہ کرسکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ برنٹ کروڈ 12 سینٹ یا 0.

19 فیصد کمی کے ساتھ 64.62 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جب کہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ 15 سینٹ یا 0.24 فیصد گر کر 61.38 ڈالر فی بیرل پر آچکا ہے، کہا جارہا ہے کہ خام تیل کی قیمت اس لیے کم ہوئی کیوں کہ مارکیٹ نے اوپیک کی بڑھتی ہوئی سپلائی کے بارے میں غور کیا، مارکیٹ اوپیک پلس کے فیصلوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے تین ذرائع نے عالمی نیوز ایجنسی رائٹرز کو انکشاف کیا کہ آٹھ رکن ممالک جنہوں نے پہلے رضاکارانہ کٹوتیوں کا وعدہ کیا تھا وہ اب رواں ماہ 31 مئی کو ایک اہم ملاقات کریں گے، ایک نئی آؤٹ پٹ حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے یہ میٹنگ شیڈول سے ایک دن پہلے ہوگی، جس میں بلاک جولائی کے لیے پیداوار میں 4 لاکھ 11 ہزار بیرل یومیہ اضافہ کرنے پر راضی ہو سکتا ہے۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی مقامی قیمتوں میں متناسب کمی کی عکاسی نہیں کی گئی جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے، فی الحال ملک میں پیٹرول 252.63 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے جب کہ ہائی سپیڈ ڈیزل 254.64 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے،ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 16 مئی کو اعلان کردہ 2 روپے فی لیٹر کی معمولی کمی کی گئی تاہم پیٹرول کی قیمت برقرار رکھی گئی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی قیمتوں میں کمی کی قیمت یکم جون تیل کی

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟