چین آسیان اور جی سی سی ممالک کے ساتھ مشترکہ بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کا خواہاں ہے، چینی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
چین آسیان اور جی سی سی ممالک کے ساتھ مشترکہ بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کا خواہاں ہے، چینی وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 28 May, 2025 سب نیوز
کوالا لمپور :چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے کوالالمپور میں آسیان۔چین۔خلیج تعاون کونسل سمٹ میں شرکت کی۔ اس اجلاس کا موضوع تھا “مواقع کی مشترکہ تخلیق اور خوشحالی کی مشترکہ تقسیم”۔ آسیان کے موجودہ صدر ملک ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم، خلیج تعاون کونسل کے موجودہ صدر ملک کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الصباح اور آسیان، جی سی سی ممالک کے رہنما بھی تقریب میں شریک تھے۔
بدھ کے روز چینی میڈیا نے بتایا کہ اس موقع پر لی چھیانگ نے کہا کہ چین، آسیان اور جی سی سی ممالک نے اس سہ فریقی سمٹ جیسے تبادلہ پلیٹ فارم اور تعاون کے میکانزم قائم کیے ہیں، جو علاقائی اقتصادی تعاون میں ایک بڑی پیشرفت ہے اور اپنی اپنی اقتصادی خوشحالی سمیت ایشیا اور دنیا کی پرامن ترقی کے لئے اہم معنیٰ رکھتی ہے۔ لی چھیانگ نے زور دیا کہ تمام فریقوں کو اس تاریخی موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے، سہ فریقی تعاون کو مسلسل فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہئے، اور عہد حاضر میں عالمی ترقیاتی تعاون کی ایک مثال قائم کرنی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین آسیان اور جی سی سی ممالک کے ساتھ سہ فریقی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے اور ایک “عمدہ اور معیاری’’مشترکہ بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ کی تعمیر کا خواہاں ہے۔
اجلاس کے دوران رہنماوں نے سہ فریقی تعاون کو اپنی اپنی ترقی اور علاقائی امن و خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے میں نمایاں طور پر سراہا۔انہوں نے مزید کہا کہ سمٹ نے ایک ساتھ مل کر چیلنجز کا سامنا کرنے اور نئی ترقی کی کہانی تخلیق کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ سمٹ کے دوران “بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون کو مزید گہرا کرنے، سہ فریقی روابط کی تعمیر کو فروغ دینے، مضبوط، جامع اور پائیدار ترقی کے حصول میں مدد دینے، اور ایک ہم نصیب معاشرے کے قیام کی تعمیر سے متعلق کوششوں کو آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ اجلاس نے’’آسیان۔چین۔خلیج تعاون کونسل سمٹ کا مشترکہ بیان‘‘ بھی منظور کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآسیان چین اور جی سی سی سربراہ اجلاس سے سہ فریقی تعاون کا ایک نیا باب کھل گیا، چینی وزیراعظم آسیان چین اور جی سی سی سربراہ اجلاس سے سہ فریقی تعاون کا ایک نیا باب کھل گیا، چینی وزیراعظم عالمی برادری چینی معیشت کے بارے میں پراعتماد فلپائن کی بحیرہ جنوبی چین میں ہرقسم کی اشتعال انگیزی ناکام ہو گی ، چینی میڈیا یوم تکبیر پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، عاطف اکرام شیخ روبوٹ کمپیٹیشن سمیت چائنا میڈیا گروپ کی تخلیقی سرگرمیوں پر تائیوان کے نوجوان خوش اور پروجوش ہیں، چینی میڈیا سرمایہ کاری کے لیے بلوچستان ایک نیا معاشی مرکز بننے کو تیارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا سیان اور جی سی سی ممالک جی سی سی ممالک کے سہ فریقی تعاون چینی وزیراعظم بیلٹ اینڈ روڈ ا سیان چین تعاون کو کی تعمیر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔