حج پر آئے ایرانی عالم دین غلام رضا قاسمیان سوشل میڈیا پر تنقیدی ویڈیو شیئر کرنے پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
ریاض(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 28 مئی ۔2025 )سعودی عرب نے حج پر آئے ایرانی عالم دین غلام رضا قاسمیان کو سوشل میڈیا پر تنقیدی ویڈیو شیئر کرنے پر گرفتار کرلیا ہے ایران کی عدلیہ نے عالم دین کی گرفتاری کی مذمت کی ہے، غلام رضا قاسمیان نے ویڈیو میں سیاحت اور مغری کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے معیشت کو کھولنے کے لیے کئی سماجی پابندیاں نرم کرنے پر سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا.
(جاری ہے)
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق غلام رضا قاسمیان کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے ایک ویڈیو میں سعودی عرب کو اخلاقی بگاڑ کو فروغ دینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا ایران کی عدلیہ نے غلام رضا قاسمیان کی گرفتاری کو غیرمنصفانہ اور غیرقانونی قرار دیا ہے جبکہ سعودی حکومت کے رابطہ دفتر نے” رائٹرز“ کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا. غلام رضا قاسمیان نے اپنی ویڈیو میں کہا تھا کہ اب لوگ قمار خانوں، قحبہ خانوں اور فحش کنسرٹس کے لیے انطالیہ (ترکی کا مشہوری سیاحتی مقام جہاں ایرانی اکثر جاتے ہیں) کے بجائے مکہ اور مدینہ جائیں گے یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب میڈیا رپورٹ میں کہا گیا جب سعودی عہدیدار کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تھی کہ ریاض شراب پر پابندی کے 73 سالہ پرانے قانون کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو کہ مذہبی مسلمانوں کے لیے ممنوع ہے. ایران نے 2023 میں کئی سالہ علاقائی رقابت کے بعد سعودی عرب سے دوبارہ تعلقات بحال کیے تھے سوشل میڈیا پلیٹ فارم” ایکس“ پر کچھ ایرانی صارفین نے غلام رضا قاسمیان کی جرات پر ان کی تعریف کی جبکہ دوسروں نے ان پر تنقید کی کہ ان کے بیانات توہین آمیز ہیں اور دو ممالک کے درمیان برف پگھلنے کے عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں سرکاری میڈیا نے آگاہ کیا ہے کہ ایران کا قونصل خانہ جدہ میں اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے اور گرفتاری کے بعد سے اب تک علی رضا قاسمیان سے دو بار ملاقات کر چکا ہے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران خاص طور پر حج جیسے روحانی ماحول میں مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کرتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم پرعزم ہیں کہ کسی کو بھی اپنے برادر پڑوسیوں بالخصوص ایران اور سعودی عرب کے ترقی پسند تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے غلام رضا قاسمیان
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔