اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 مئی 2025ء) ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن کے مطابق، ''صیہونی حکومت کے لیے جاسوسی کرنے والے پیدرم مدنی کی شناخت، گرفتاری اور عدالتی کارروائی کے بعد، اور فوجداری طریقہ کار پر عملدرآمد اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی حتمی توثیق اور برقراری کے بعد، انہیں انصاف کے مطابق پھانسی دے دی گئی۔

‘‘

ایران میں گزشتہ برس 975 افراد کو سزائے موت دی گئی

عالمی سطح پر سزائے موت پر عمل درآمد میں غیر معمولی اضافہ

رپورٹ کے مطابق مدنی پر خفیہ معلومات کی ترسیل اور برسلز سمیت بیرون ملک موساد کے افسران سے ملاقاتیں کرنے کا الزام تھا۔

عدلیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی گرفتاری سے قبل 2020ء اور 2021ء میں 'مقبوضہ علاقوں‘ کا سفر کیا تھا۔

(جاری ہے)

ایرانی حکام یہ اصطلاح اسرائیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مدنی کو اسرائیل سے یورو اور بٹ کوائن کی شکل میں ''غیر قانونی دولت‘‘ حاصل کرنے کا بھی مجرم قرار دیا گیا تھا۔

میزان آن لائن پر جاری کردہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مدنی کو اسرائیلی ''حکومت کی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے لیے جاسوسی‘‘ کا قصوروار پایا گیا اور ''خدا کے خلاف جنگ کرنے اور زمین پر بدعنوانی‘‘ کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔

اسرائیل کے لیے جاسوسی کے دیگر معاملات

پیدرم مدنی کو سزائے موت دیے جانے کا معاملہ ایران میں اسی طرح کے الزامات کے تحت دیگر افراد کو بھی سزائیں دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

رواں برس اپریل میں محسن لنگرنشین کو سزائے موت دے دی گئی تھی جن پر الزام تھا کہ انہوں نے 2022ء میں تہران میں پاسداران انقلاب کے کرنل حسن سید خدائی کے قتل میں موساد کی مبینہ طور پر مدد کی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ لنگرنشین نے موساد کو تکنیکی مدد فراہم کی اور بیرون ملک اسرائیلی ایجنٹوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔

ایران، جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، بار بار اپنے اس روایتی حریف ملک پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ایران کے اندر خفیہ کارروائیاں کرتا آیا ہے، جن میں اس کے جوہری پروگرام پر حملے اور اس کے سائنسدانوں کا قتل بھی شامل ہیں۔

دونوں حریف ممالک کے درمیان کشیدگی حال ہی میں غزہ میں جاری جنگ کے دوران براہ راست تصادم کے بعد عروج پر ہے۔

1979ء میں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد سے تہران نے فلسطین کے معاملے کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون بنایا ہوا ہے۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے جاسوسی کو سزائے موت کے بعد

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم