پاکستان کی پہلی نیٹ فلکس سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
پاکستان کی پہلی نیٹ فلکس سیریز "جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو" کی ریلیز کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی کاسٹ پر مبنی یہ سیریز ابتدائی طور پر جون 2025 میں ریلیز ہونے والی تھی، تاہم اب اسے رواں سال کے آخر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ نئی متوقع تاریخ اکتوبر یا نومبر 2025 بتائی جا رہی ہے، لیکن حتمی دن کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سیریز کی پوسٹ پروڈکشن میں اضافی وقت درکار ہے تاکہ ناظرین کو ایک اعلیٰ معیار کی پروڈکشن فراہم کی جا سکے۔ ٹیم کی جانب سے یہ فیصلہ اس مقصد کے تحت کیا گیا ہے کہ تمام تکنیکی پہلوؤں کو مکمل اور بہتر انداز میں نمٹایا جا سکے، تاکہ عالمی سطح پر ایک مثبت تاثر قائم کیا ہو۔
https://www.instagram.com/p/DKMbWlNs9o9/
یہ سیریز پاکستانی ناظرین کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ناظرین کی بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ اس میں پاکستان کی سب سے بڑی اسٹار کاسٹنگ کی گئی ہے جن میں ماہرہ خان، فواد خان، ہانیہ عامر، صنم سعید، اقرا عزیز، احد رضا میر اور بلال اشرف شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔