آصف علی زرداری سے وسطی پنجاب کے سیاسی و سماجی وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
حسن علی:صدر پاکستان آصف علی زرداری سے وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سماجی و سیاسی شخصیات پر مشتمل وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وفد نے صدر مملکت کو فیصل آباد، گجرات اور وسطی پنجاب کے دیگر اضلاع کے عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ وفد نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو قومی ترقی کے لیے استعمال کرنے کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کیں۔وفد میں سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید خان، تنویر اشرف کائرہ، بلال فاروق، عمر فاروق، اسامہ فاروق، علی جعفر اور حرا تنویر شامل تھے۔
یوم تکبیر ،چیئرمین ہلال احمر ڈاکٹر سعید الہٰی کی قیادت میں ریلی
صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام خطوں میں جمہوری اداروں کی مضبوطی ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اور ان کی تعلیم و تربیت سے ہی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
صدر نے وفد کی تجاویز کو سراہا اور کہا کہ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملک بھر میں عید الاضحٰی کا چاند نظر آگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔