ائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے کہا ہے کہ پاکستان یو این امن مشنز کے لئے فوجی تعاون کرنے والا سرکردہ ملک ہے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اقوام متحدہ کی امن فوج کے دستے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے دنیا کے کئی حصوں میں لگن اور حوصلے کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں، پاکستان اقوام متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے امن دستوں کی لگن، حوصلے اور خدمات کو تسلیم کرنے کے لئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن اقوام متحدہ کی امن فوج میں شامل بڑی تعداد میں اہلکاروں کی جانب سے اپنی ڈیوٹی کے دوران دی گئی جانوں کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے بھی ایک اہم یاد دہانی ہے جن میں پاکستان کے 181 بہادر امن فوجی بھی شامل ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ برسوں کے دوران پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز کے لئے فوجی تعاون کرنے والا ایک سرکردہ ملک رہا ہے، امن فوج میں دو لاکھ 35 ہزار سے زیادہ پاکستانی مرد اور خواتین اہلکار دنیا کے کئی حصوں میں امتیاز کے ساتھ خدمات انجام دے چکے اور دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے قدیم ترین امن مشن میں سے ایک اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ ان انڈیا اینڈ پاکستان (یو این ایم او جی آئی پی) کا میزبان بھی ہے۔

نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے کہا کہ خطے میں حالیہ پیش رفت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے ساتھ ساتھ (یو این ایم او جی آئی پی) کی موجودگی اور کردار کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت کو تقویت دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کو کثیر جہتی خطرات کا سامنا ہے، اقوام متحدہ کی امن فوج بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے سب سے زیادہ قابل اعتماد اور موثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس دن کی یاد کے موقع پر اقوام متحدہ کی امن فوج کو عصری اور مستقبل کے چیلنجز بشمول تکنیکی جدت طرازی اور علاقائی شراکت داری کو مضبوط کرنا ،سے نمٹنے کے لئے سیاسی عزم کی تجدید کی ضرورت ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور جمہوریہ کوریا نے 15 سے 16 اپریل کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی وزارتی تیاری کے تیسرے اجلاس کی ”محفوظ اور زیادہ موثر امن قائم کرنے کی طرف: ٹیکنالوجی کا استعمال اور مربوط نقطہ نظر“ کے موضوع کے تحت مشترکہ میزبانی کی۔

اجلاس کے نتائج اس مقصد کے حصول کے اقدامات کی رفتار تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال دنیا کے لئے اقوام متحدہ کے امن مشن کے لئے اپنے مضبوط عزم کو برقرار رکھتا ہے اور رکھے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی امن فوج اقوام متحدہ کے امن انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کہ پاکستان کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا