پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی ہے، باقاعدہ ریگولیشنز کی ضرورت ہے، سیکریٹری خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی ہے، باقاعدہ ریگولیشنز کی ضرورت ہے، سیکریٹری خزانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 29 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کو حکومت کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی ہے، کرپٹو کرنسی کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کرپٹو کرنسی کو منی لانڈرنگ سے کیسے بچائے گا؟ ۔
شرمیلا فاروقی نے ڈیجیٹل کرنسی کی ریگولیشنز سے متعلق بل پیش کر دیا، انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی کوئی ریگولیشنز موجود نہیں، پاکستان ڈیجیٹل کرنسی کی طرف آگے بڑھ رہا ہے، کرپٹو کرنسی ڈی سینٹرالائزڈ ہوتی ہے، پاکستان حال ہی میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے باہر نکلا ہے۔
شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کرپٹو کرنسی کو منی لانڈرنگ سے کیسے بچائے گا؟
سیکریٹری خزانہ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کرپٹو کونسل میں ابتدائی کام ہو رہا ہے، کرپٹو کرنسی کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز کی ضرورت ہے، پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی ہے، اسٹیٹ بینک نے کرپٹو کوائنز میں سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے حکام نے اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا کہ ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق نیشنل ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے، کرپٹو کونسل کو تجاویز دی گئی ہیں، کرپٹو کرنسی کے لیے لیگل فریم ورک درکار ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے افسران نے کہا کہ پوری دنیا میں صرف سیلواڈور نےکرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دیا ہے، اور وہ بھی اب اس فیصلے کو واپس لے رہا ہے۔
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون 2025 کو ہی پیش کیا جائے گا۔
سیکریٹری خزانہ نے قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو ہی پیش ہوگا، بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسانحہ9مئی :سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں سانحہ9مئی :سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے آگئیں مخصوص نشستیں نظرثانی کیس: کیا جج آئین سے باہر جا کر فیصلہ دے سکتے ہیں اور آئین ری رائٹ کرسکتے ہیں؟ جسٹس محمد علی... امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ: ٹرمپ کے ٹیرف غیر قانونی قرار، ڈالر کی قدر میں تیزی سے اضافہ عمران خان نے کہا اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کیلئے دروازے کھلے ہیں: سینیٹر علی ظفر عمران خان کے پنجاب میں قائم سیاسی کمیٹی پر تحفظات، عالیہ حمزہ سربراہ مقرر ججز ٹرانسفر و سنیارٹی کیس: سپریم کورٹ نے فیصلے کی ممکنہ تاریخ دے دی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیکریٹری خزانہ قائمہ کمیٹی کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔