فیلڈ مارشل، پی ایل17 اور ’’بلف گیم‘‘
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ میزائل پہلے سے چین کے J-20 “Mighty Dragon” میں محدود پیمانے پر شامل کیا جا چکا ہے اور اب J-10C کے ساتھ بھی آزمائش کے مراحل سے گزر رہا ہے، جو کہ پاکستان کے زیر استعمال ہیں۔ پی ایل 15 چار میٹر لمبا ہے جبکہ پی ایل 17کم و بیش 6 میٹر طویل ہے اس لئے اسے جے 10 سی کے نیچے نصب کرنے میں کچھ ٹیکنیکل و مکینکل مسائل ہیں۔
دوسری طرف 400کلومیٹر دور تک درست نشانہ لگانے کے لئے اس کے ریڈار کی صلاحیت اور دیگر حساس سافٹ ویئرز کو بھی اپ گریڈ کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر پاکستان PL-17حاصل کر لیتا ہے تو یہ بھارت پر ایک واضح فضائی برتری کا مظہر ہو گا۔ اس میزائل کی رینج فی الحال 400کلومیٹر تک ہے اور بھارت میں اس حوالے سے بھی لرزہ طاری ہے کہ اگر چین نے خفیہ طور پر اس کی رینج 400 کلومیٹر سے بھی بڑھا کر 500 یا 550 کلومیٹر کر دی تو اگلے پاک بھارت معرکے میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی نئی ’’بلف گیم‘‘ایک بار پھر حقیقت کا روپ دھار کر بھارت کا منہ چڑا رہی ہو گی، بھارت کے پاس موجود رافیل طیاروں پر نصب ’’میٹیور‘‘ میزائل کی رینج 150 سے 200کلومیٹر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح بھارتی SU-30MKI یا تی جس پر موجود Astra Mk1/2 کی رینج بھی PL-17 سے بہت کم ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی J-10C یا JF-17 Block III جیسے جدید طیارے، اگر PL-17سے لیس ہوں، تو وہ بھارتی طیاروں کو اس سے پہلے نشانہ بنا سکتے ہیں کہ بھارتی پائلٹ ان کی موجودگی کا پتہ بھی لگا سکیں۔ یہی وہ “first shot advantage” ہے جو کسی بھی فضائی معرکے میں فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے حالیہ4روزہ معرکے کا ایک اور بڑا سبق یہ ہے کہ متحارب ممالک کی فیصلہ ساز قوتوں کے ’’ہارڈ ویئر اینڈ سافٹ ویئر‘‘کی ’’جنریشن‘‘بھی جنگ میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے، بھارت کے صرف طیاروں اور میزائلوں کی جنریشن پاکستان سے’’پسماندہ‘‘نہیں تھی بلکہ بھارتی فیصلہ ساز مقتدر قوتیں بھی پاکستان کی فیصلہ ساز مقتدر قوتوں کے مقابلے میں ’’پرانی جنریشن‘‘کی ہیں، اس لئے وہ حالت جنگ کی ذہنی و شعوری مستعدی میں پاکستان کے فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم جیسی ہمہ جہت الرٹ رہنے والی کارکردگی نہ دکھا سکیں، بھارت اگر مقابلے کی اس دوڑ میں شامل رہنا چاہتا ہے تو صرف اپنے ہتھیار اپ گریڈ کرنے پر ہنگامی توجہ دینے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اسے اپنی مقتدر قوتوں کو بھی کسی ’’کریش پروگرام‘‘کے ذریعے ذہنی و جسمانی دونوں حوالوں سے ’’اپ گریڈ‘‘کرنا ہوگا، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووال تک پوری فیصلہ ساز انڈین ٹاپ لیڈر شپ بہت بوڑھی ہو چکی ہے اور دور جدید کی جنگوں کے تقاضوں کو سمجھنے اور فوری ہضم کرنے سے قاصر ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہونے اور معاشی مسائل کی دلدل میں دھنسا ہونے کے باوجود جدید حساس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بھارت سے آگے نکل چکا ہے
ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارتی فیصلہ ساز قوتوں کی اوسط عمر پاکستان کی فیصلہ ساز قوتوں کی اوسط عمر سے کم و بیش 10سے 12سال زیادہ ہے، اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستانی ’’بلف گیم‘‘ کے مقابلے کے لئے بھارتی قیادت ضروری ذہنی و شعوری بیداری کا مظاہرہ نہیں کر پائی، مودی سرکار نے سوچنے اور فیصلہ کرنے میں کئی قیمتی برس ضائع کر دیئے اور اپنی فضائیہ کو بروقت اپ گریڈ نہ کر پائی، یہی وجہ ہے کہ جنگ کے لئے وقت اور میدان کا انتخاب کرنے کا ایڈوانٹیج حاصل ہونے کے باوجود بھارت کو 4روزہ جنگ میں شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارت کے 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مقتدر قوتوں کہ پاکستان پاکستان کے فیصلہ ساز بھارت کے قوتوں کے اپ گریڈ کی رینج
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔