Daily Ausaf:
2026-06-03@05:00:34 GMT

فیلڈ مارشل، پی ایل17 اور ’’بلف گیم‘‘

اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ میزائل پہلے سے چین کے J-20 “Mighty Dragon” میں محدود پیمانے پر شامل کیا جا چکا ہے اور اب J-10C کے ساتھ بھی آزمائش کے مراحل سے گزر رہا ہے، جو کہ پاکستان کے زیر استعمال ہیں۔ پی ایل 15 چار میٹر لمبا ہے جبکہ پی ایل 17کم و بیش 6 میٹر طویل ہے اس لئے اسے جے 10 سی کے نیچے نصب کرنے میں کچھ ٹیکنیکل و مکینکل مسائل ہیں۔
دوسری طرف 400کلومیٹر دور تک درست نشانہ لگانے کے لئے اس کے ریڈار کی صلاحیت اور دیگر حساس سافٹ ویئرز کو بھی اپ گریڈ کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر پاکستان PL-17حاصل کر لیتا ہے تو یہ بھارت پر ایک واضح فضائی برتری کا مظہر ہو گا۔ اس میزائل کی رینج فی الحال 400کلومیٹر تک ہے اور بھارت میں اس حوالے سے بھی لرزہ طاری ہے کہ اگر چین نے خفیہ طور پر اس کی رینج 400 کلومیٹر سے بھی بڑھا کر 500 یا 550 کلومیٹر کر دی تو اگلے پاک بھارت معرکے میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی نئی ’’بلف گیم‘‘ایک بار پھر حقیقت کا روپ دھار کر بھارت کا منہ چڑا رہی ہو گی، بھارت کے پاس موجود رافیل طیاروں پر نصب ’’میٹیور‘‘ میزائل کی رینج 150 سے 200کلومیٹر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح بھارتی SU-30MKI یا تی جس پر موجود Astra Mk1/2 کی رینج بھی PL-17 سے بہت کم ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی J-10C یا JF-17 Block III جیسے جدید طیارے، اگر PL-17سے لیس ہوں، تو وہ بھارتی طیاروں کو اس سے پہلے نشانہ بنا سکتے ہیں کہ بھارتی پائلٹ ان کی موجودگی کا پتہ بھی لگا سکیں۔ یہی وہ “first shot advantage” ہے جو کسی بھی فضائی معرکے میں فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے حالیہ4روزہ معرکے کا ایک اور بڑا سبق یہ ہے کہ متحارب ممالک کی فیصلہ ساز قوتوں کے ’’ہارڈ ویئر اینڈ سافٹ ویئر‘‘کی ’’جنریشن‘‘بھی جنگ میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے، بھارت کے صرف طیاروں اور میزائلوں کی جنریشن پاکستان سے’’پسماندہ‘‘نہیں تھی بلکہ بھارتی فیصلہ ساز مقتدر قوتیں بھی پاکستان کی فیصلہ ساز مقتدر قوتوں کے مقابلے میں ’’پرانی جنریشن‘‘کی ہیں، اس لئے وہ حالت جنگ کی ذہنی و شعوری مستعدی میں پاکستان کے فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم جیسی ہمہ جہت الرٹ رہنے والی کارکردگی نہ دکھا سکیں، بھارت اگر مقابلے کی اس دوڑ میں شامل رہنا چاہتا ہے تو صرف اپنے ہتھیار اپ گریڈ کرنے پر ہنگامی توجہ دینے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اسے اپنی مقتدر قوتوں کو بھی کسی ’’کریش پروگرام‘‘کے ذریعے ذہنی و جسمانی دونوں حوالوں سے ’’اپ گریڈ‘‘کرنا ہوگا، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووال تک پوری فیصلہ ساز انڈین ٹاپ لیڈر شپ بہت بوڑھی ہو چکی ہے اور دور جدید کی جنگوں کے تقاضوں کو سمجھنے اور فوری ہضم کرنے سے قاصر ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہونے اور معاشی مسائل کی دلدل میں دھنسا ہونے کے باوجود جدید حساس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بھارت سے آگے نکل چکا ہے
ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارتی فیصلہ ساز قوتوں کی اوسط عمر پاکستان کی فیصلہ ساز قوتوں کی اوسط عمر سے کم و بیش 10سے 12سال زیادہ ہے، اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستانی ’’بلف گیم‘‘ کے مقابلے کے لئے بھارتی قیادت ضروری ذہنی و شعوری بیداری کا مظاہرہ نہیں کر پائی، مودی سرکار نے سوچنے اور فیصلہ کرنے میں کئی قیمتی برس ضائع کر دیئے اور اپنی فضائیہ کو بروقت اپ گریڈ نہ کر پائی، یہی وجہ ہے کہ جنگ کے لئے وقت اور میدان کا انتخاب کرنے کا ایڈوانٹیج حاصل ہونے کے باوجود بھارت کو 4روزہ جنگ میں شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارت کے 4.

5جنریشن کے طیارے اور 4جنریشن کی مقتدر قوتوں کا ملاپ اگر پاکستان کے 4.5جنریشن کے طیاروں اور 5جنریشن کی مقتدر قوتوں کے ملاپ کا مقابلہ نہ کر پایا تو وہ پاکستان کے 5 جنریشن کے میزائل پی ایل 17 اور 5جنریشن کی مقتدر قوتوں کے ملاپ کا مقابلہ کیسے کر پائے گا؟(جاری ہے)

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مقتدر قوتوں کہ پاکستان پاکستان کے فیصلہ ساز بھارت کے قوتوں کے اپ گریڈ کی رینج

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی