Daily Ausaf:
2026-07-24@05:52:57 GMT

فیلڈ مارشل، پی ایل17 اور ’’بلف گیم‘‘

اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ میزائل پہلے سے چین کے J-20 “Mighty Dragon” میں محدود پیمانے پر شامل کیا جا چکا ہے اور اب J-10C کے ساتھ بھی آزمائش کے مراحل سے گزر رہا ہے، جو کہ پاکستان کے زیر استعمال ہیں۔ پی ایل 15 چار میٹر لمبا ہے جبکہ پی ایل 17کم و بیش 6 میٹر طویل ہے اس لئے اسے جے 10 سی کے نیچے نصب کرنے میں کچھ ٹیکنیکل و مکینکل مسائل ہیں۔
دوسری طرف 400کلومیٹر دور تک درست نشانہ لگانے کے لئے اس کے ریڈار کی صلاحیت اور دیگر حساس سافٹ ویئرز کو بھی اپ گریڈ کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر پاکستان PL-17حاصل کر لیتا ہے تو یہ بھارت پر ایک واضح فضائی برتری کا مظہر ہو گا۔ اس میزائل کی رینج فی الحال 400کلومیٹر تک ہے اور بھارت میں اس حوالے سے بھی لرزہ طاری ہے کہ اگر چین نے خفیہ طور پر اس کی رینج 400 کلومیٹر سے بھی بڑھا کر 500 یا 550 کلومیٹر کر دی تو اگلے پاک بھارت معرکے میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی نئی ’’بلف گیم‘‘ایک بار پھر حقیقت کا روپ دھار کر بھارت کا منہ چڑا رہی ہو گی، بھارت کے پاس موجود رافیل طیاروں پر نصب ’’میٹیور‘‘ میزائل کی رینج 150 سے 200کلومیٹر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح بھارتی SU-30MKI یا تی جس پر موجود Astra Mk1/2 کی رینج بھی PL-17 سے بہت کم ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی J-10C یا JF-17 Block III جیسے جدید طیارے، اگر PL-17سے لیس ہوں، تو وہ بھارتی طیاروں کو اس سے پہلے نشانہ بنا سکتے ہیں کہ بھارتی پائلٹ ان کی موجودگی کا پتہ بھی لگا سکیں۔ یہی وہ “first shot advantage” ہے جو کسی بھی فضائی معرکے میں فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے حالیہ4روزہ معرکے کا ایک اور بڑا سبق یہ ہے کہ متحارب ممالک کی فیصلہ ساز قوتوں کے ’’ہارڈ ویئر اینڈ سافٹ ویئر‘‘کی ’’جنریشن‘‘بھی جنگ میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہے، بھارت کے صرف طیاروں اور میزائلوں کی جنریشن پاکستان سے’’پسماندہ‘‘نہیں تھی بلکہ بھارتی فیصلہ ساز مقتدر قوتیں بھی پاکستان کی فیصلہ ساز مقتدر قوتوں کے مقابلے میں ’’پرانی جنریشن‘‘کی ہیں، اس لئے وہ حالت جنگ کی ذہنی و شعوری مستعدی میں پاکستان کے فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم جیسی ہمہ جہت الرٹ رہنے والی کارکردگی نہ دکھا سکیں، بھارت اگر مقابلے کی اس دوڑ میں شامل رہنا چاہتا ہے تو صرف اپنے ہتھیار اپ گریڈ کرنے پر ہنگامی توجہ دینے سے کام نہیں چلے گا بلکہ اسے اپنی مقتدر قوتوں کو بھی کسی ’’کریش پروگرام‘‘کے ذریعے ذہنی و جسمانی دونوں حوالوں سے ’’اپ گریڈ‘‘کرنا ہوگا، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دووال تک پوری فیصلہ ساز انڈین ٹاپ لیڈر شپ بہت بوڑھی ہو چکی ہے اور دور جدید کی جنگوں کے تقاضوں کو سمجھنے اور فوری ہضم کرنے سے قاصر ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہونے اور معاشی مسائل کی دلدل میں دھنسا ہونے کے باوجود جدید حساس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں بھارت سے آگے نکل چکا ہے
ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارتی فیصلہ ساز قوتوں کی اوسط عمر پاکستان کی فیصلہ ساز قوتوں کی اوسط عمر سے کم و بیش 10سے 12سال زیادہ ہے، اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستانی ’’بلف گیم‘‘ کے مقابلے کے لئے بھارتی قیادت ضروری ذہنی و شعوری بیداری کا مظاہرہ نہیں کر پائی، مودی سرکار نے سوچنے اور فیصلہ کرنے میں کئی قیمتی برس ضائع کر دیئے اور اپنی فضائیہ کو بروقت اپ گریڈ نہ کر پائی، یہی وجہ ہے کہ جنگ کے لئے وقت اور میدان کا انتخاب کرنے کا ایڈوانٹیج حاصل ہونے کے باوجود بھارت کو 4روزہ جنگ میں شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارت کے 4.

5جنریشن کے طیارے اور 4جنریشن کی مقتدر قوتوں کا ملاپ اگر پاکستان کے 4.5جنریشن کے طیاروں اور 5جنریشن کی مقتدر قوتوں کے ملاپ کا مقابلہ نہ کر پایا تو وہ پاکستان کے 5 جنریشن کے میزائل پی ایل 17 اور 5جنریشن کی مقتدر قوتوں کے ملاپ کا مقابلہ کیسے کر پائے گا؟(جاری ہے)

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: مقتدر قوتوں کہ پاکستان پاکستان کے فیصلہ ساز بھارت کے قوتوں کے اپ گریڈ کی رینج

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار