خیبر پختونخوا میں بارش اور تیز ہوائیں چلنے سے متعدد شاہراہوں پر درختوں گرنے سے معاصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا، ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ابیٹ آباد، نتھیا گلی، ایوبیہ اور ٹھنڈیانی میں بھی گرج چمک کیساتھ تیز بارش ہوئی جبکہ سوات کے مختلف علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوئی، ژالہ باری سے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں طوفان اور موسلادھار بارش نے تباہی مچادی دی، آسمانی بجلی گرنے، دیوار اور چھتیں گرنے کے مختلف واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ مردان کے علاقے تخت بھائی میں کمرے کی چھت گرنے سے ماں بیٹی جاں بحق ہوگئیں جبکہ دیگر مقامات میں دیوار اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 10 افراد زخمی ہوگئے۔ مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی خانقاہ ماربل درنگ میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد جاں بحق ایک زخمی ہوگئے جبکہ اٹک خضرو کے گاؤں بہادر خان میں آسمانی بجلی گرنے سے مدرسے کا طالب علم جاں بحق ہوگیا، جاں بحق افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

بارش اور تیز ہوائیں چلنے سے متعدد شاہراہوں پر درختوں گرنے سے معاصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا، ریسکیو ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ابیٹ آباد، نتھیا گلی، ایوبیہ اور ٹھنڈیانی میں بھی گرج چمک کیساتھ تیز بارش ہوئی جبکہ سوات کے مختلف علاقوں میں ژالہ باری بھی ہوئی، ژالہ باری سے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، ڈی سی اسلام آباد کی ہدایت پر تمام اسسٹنٹ کمشنرز فیلڈ میں موجود ہیں۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نشیبی علاقوں اور زیر تعمیر عمارات کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فی الفور ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ژالہ باری کے مختلف

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن