اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات میں تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ تیز بارش
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی دارالحکومت، راولپنڈی، مری، گلیات اور اطراف کے علاقوں میں تیز آندھی اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا اور محکمہ موسمیات نے بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان میں جھکڑ چلنے اور بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔
جڑواں شہروں میں آج دن بھر شدید گرمی کے بعد سہہ پہر کو موسم نے انگڑائی لی اور بادل پھیلنے لگے، دیکھتے ہی دیکھتے کالی گھٹائیں چھا گئیں اور عصر کے وقت اندھیرا چھا گیا اور اس دوران تیز آندھی اور جھکڑ چلنے لگے۔
دونوں شہروں اور اطراف کے علاقوں میں دو گھنٹے تک تیز آندھی چلتی رہی، جس سے شہری خوف کا شکار رہے تاہم کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہے، مغرب کے بعد بارش شروع ہو گئی جو وقفے وقفے سے رات گئے تک جاری رہی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے دو دن تک آندھی جھکڑ چلنے، ژالہ باری اور بارش سے کمزور انفرا اسٹرکچر بجلی کے کھمبوں، درختوں، گاڑیوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے مزید کہا کہ بالائی خیبرپختونخوا، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی طور پرابرآلود رہنے کے علاوہ آندھی، جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔
اس دوران کشمیر، خطہ پوٹھوہار اور بالائی خیبرپختونخوا میں بعض مقامات پر موسلادھار بارش یا ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تیز آندھی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔