رات 11بجے تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں آندھی و موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ،این ڈی ایم اے نے ایڈوائزری جاری کر دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
رات 11بجے تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں آندھی و موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ،این ڈی ایم اے نے ایڈوائزری جاری کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ملک بھر میں طوفان، تیز ہواوں اور شدید بارشوں کا امکان ہے،این ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی صورتحال کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی ۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق آج شام سے رات 11بجے تک اسلام آباد اور راولپنڈی میں آندھی و موسلادھار بارش متوقع ہے ،جڑواں شہروں میں ژالہ باری کابھی امکان ہے۔خیبر پختونخوا،شمالی پنجاب اور جنوب مشرقی پنجاب میں ژالہ باری، آندھی اورشدید بارش کا امکان ہے،خیبر پختونخوا میں پشاور، چارسدہ، صوابی اور مردان میں ژالہ باری، آندھی اورشدید بارش متوقع ہے۔
اسی طرح رحیم یار خان اور صادق آباد کے علاقوں میں شدید بارش، آندھی اور طوفان کا امکان ہے،آزاد کشمیر میں مظفرآباد اور وادی نیلم میں بھی آندھی، طوفان اور شدید بارش متوقع ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائے، عوام سے التماس ہے کہ طوفان اور شدید بارش کے دوران محتاط رہیں، کے خطرے سے دوچار علاقوں میں بارش کے دوران سفر سے گریز کریں۔
تیز ہواوں اور طوفان کے دوران کمزور تعمیرات، درختوں اور بل بورڈز سے دور رہیں۔ متوقع موسمی صورتحال کے دوران کھڑی فصلوں، گاڑیوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہذا محتاط رہیں،عوام سے گزارش کی ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے آگاہی کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے راہنمائی لیں
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے بورڈ کا دسواں اجلاس، مختلف فیسوں اور چارجرز میں نظر ثانی کرکے نمایاں کمی کا فیصلہ چیئرمین محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے بورڈ کا دسواں اجلاس، مختلف فیسوں اور چارجرز میں نظر ثانی کرکے نمایاں کمی... چیف ایگزیکٹو آئیسکوکل فیس بک لائیو اور ٹیلی فون پر آئیسکو ریجن کے صارفین کی شکایات سنیں گے،ترجمان آئیسکو لا اینڈ جسٹس کمیشن نے غیر سرکاری اراکین کو بھی اجلاسوں میں شامل کرلیا اسلام آباد ہائیکورٹ ،190ملین پاونڈ کیس میں عمران خان، بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر بنگلا دیش میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ، فوری الیکشن کا مطالبہ پی ٹی آئی میں کشمکش ، حکمت عملی کا فقدان ہے اور ورکرز میں لاوا پک رہا ہے،سنیئر رہنما شوکت یوسفزئی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے نے اسلام آباد ژالہ باری کا امکان آباد اور
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔