کشتواڑ، بھارتی پولیس نے 2 کشمیریوں کو حراست میں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت رستم علی اور ارشد حسین کے نام سے ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع کشتواڑ میں 2 کشمیریوں کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت رستم علی اور ارشد حسین کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام نے ان کی گرفتاری کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ 22 اپریل کو پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد سے 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔