پاکستان ریلویز کو گزشتہ 11 ماہ کے دوران ریکارڈ آمدن
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
لاہور:
پاکستان ریلوے کو گزشتہ 11 ماہ کے دوران ریکارڈ 83 ارب روپے کی آمدن ہوئی ہے۔
پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہور سے جاری بیان کے مطابق پاکستان ریلویز کو 11 ماہ میں 83 ارب کی ریکارڈ آمدن ہوئی، مسافر ٹرینوں سے 42 ارب اور مال گاڑیوں سے 29 ارب کا سرمایہ حاصل ہوا۔
ریلوے کو دیگر ذرائع سے 12 ارب کی آمدن حاصل ہوئی ہے اور اس کے بعد مالی سال کا 88 ارب کا ریکارڈ توڑنے کے امکانات بھی روشن ہوگئے ہیں۔
پاکستان ریلوے نے بتایا کہ کراچی ڈویژن سے مسافر ٹرینوں سے 13 ارب، مال گاڑیوں سے 25 ارب کی آمدن ہوئی۔
اسی طرح لاہور ڈویژن نے مسافر ٹرینوں سے 10 ارب اور مال گاڑیوں سے پونے ایک ارب آمدن حاصل ہوئی، اسی طرح راولپنڈی اور ملتان ڈویژن نے پسنجر سیکٹر سے یکساں 4 ارب اور مجموعی 8 ارب آمدن حاصل کی۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ مالی سال کے 11 ماہ میں اس قدر آمدن تاریخ میں کبھی حاصل نہیں ہوئی، پچھلے سال اسی عرصے میں ریلوے نے 77 ارب ریونیو اکٹھا کیا تھا۔
حنیف عباسی نے کہا کہ محنت اور لگن سے ریلوے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔