وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت بجٹ تجاویز پر غور کیلئے اجلاس، پائیدار ترقی کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
نئے بجٹ کے اہم شعبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ اس میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب، شمسی توانائی کے نظام میں توسیع، تعلیم، صحت، زراعت، اور صنعتی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2024-25ء میں ہم نے کوئی نئی اسکیمیں شروع نہیں کیں کیونکہ ہماری ترجیح جاری منصوبوں کی تکمیل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال 26-2025ء کے بجٹ تجاویز پر غور کیلئے ایک اعلی سطح کابینہ اجلاس وزیراعلی ہاؤس میں منعقد کیا جس میں وزرا، مشیران، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور متعلقہ سیکریٹریز شریک تھے۔ اجلاس میں حکومت کی ترقی، غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے عزم کو اجاگر کیا گیا جو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات کے مطابق ہے۔ اجلاس کے آغاز میں مراد شاہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کابینہ کے تمام اراکین بجٹ کی تیاری میں بھرپور حصہ لیں تاکہ یہ بجٹ عوام کی اصل ضروریات کو پورا کر سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ہم نے ہر ضلع سے تجاویز اکٹھی کی ہیں تاکہ یہ بجٹ نمائندہ اور موثر ہو۔ وزیراعلی سندھ نے نئے بجٹ کے اہم شعبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب، شمسی توانائی کے نظام میں توسیع، تعلیم، صحت، زراعت، اور صنعتی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2024-25ء میں ہم نے کوئی نئی اسکیمیں شروع نہیں کیں کیونکہ ہماری ترجیح جاری منصوبوں کی تکمیل ہے۔
وزیراعلی سندھ نے مزید کہا کہ آئندہ بجٹ میں چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر عوام کو حقیقی فائدے پہنچانے والی نئی اسکیمیں شروع کی جائیں گی۔ اجلاس میں زیر بحث اہم باتوں میں سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی کی کوششیں جاری رکھنا، اسکولوں اور اسپتالوں کی مرمت، بنیادی ڈھانچے اور خدمات کو بہتر بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کے ذریعے نئے میگا پروجیکٹس کا آغاز، غربت کے خاتمے کے لئے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط کرنا، مرمت اور دیکھ بھال کے لئے بجٹ میں اضافہ، اسپتالوں کے آلات کو اپ گریڈ کرنا اور کراچی میں شہری ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کیلئے ٹرانسپورٹ منصوبوں کی تکمیل شامل ہیں۔ کابینہ کے اراکین کی جانب سے دی گئی تجاویز میں غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا اور مقامی حکومتوں کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے اقدامات، سماجی بہبود کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے ترغیبات کے ساتھ ڈیجیٹل کیش ٹرانسفرز کا آغاز، صوبے بھر میں ٹھوس فضلہ کے انتظام اور شمسی توانائی کے نظام کو وسعت دینا اور عوامی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اضلاع میں نئے بس اڈے تعمیر کرنا شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو بہتر بنانے نے کہا کہ بنانے کے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔