عمران خان نے پیغام دیا ہے جو دباؤ برداشت نہیں کرسکتا وہ ہم سے الگ ہو جائے، نعیم پنجوتھہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
راولپنڈی:
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے فوکل پرسن نعیم حیدر پنجوتھہ کا کہنا ہے کہ بانی نے تمام پارٹی عہدے داروں کو پیغام بھیجا ہے کہ جو دباؤ برداشت نہیں کرسکتا وہ ہم سے الگ ہو جائے، اب عدلیہ حکومتی عدلیہ بن چکی ہے، 26ویں ترمیم کے مقاصد سامنے ہیں ہمارے لوگوں کو سزائیں دے کر ڈس کوالیفائی کیا جا رہا ہے، ملک گیر احتجاجی تحریک کا لائحہ عمل آئندہ چند دن میں سامنے آجائے گا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں نعیم حیدر پنچوتھہ کا مزید کہنا تھا کہ آج اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت تھی کچھ وکلاء کو اندر جانے کی اجازت ملی اور کچھ کو نہیں جانے دیا گیا، آج سماعت میں کارروائی نہیں ہوسکی، بشری بی بی بطور احتجاج سماعت کا حصہ نہیں بنی۔
نعیم پنجوتھہ نے کہا کہ وہاں موجود بانی نے کہا کہ حق ہمیشہ جیتتا ہے جھوٹ کی ہار ہوتی ہے، اے ٹی سی اور دیگر ججز ملے ہوئے ہیں، 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے نہیں لارہے، ایم این اے لطیف چترالی کو جس انداز میں سزا دی گئی اب یہ لوگ ڈی سیٹ کی طرف جائیں گے، ہمارے لوگوں کو سزائیں دے کر ڈس کوالیفائی کریں گے اگر یاسمین راشد اور شاہ محمود قریشی آج پارٹی چھوڑ دیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔
نعیم پنجوتھہ کے مطابق جسٹس منیر نے جو رول ادا کیا وہی رول ثاقب نثار نے کیا، جو الیکشن فراڈ ہوا اس کی اپیلیں اسی الیکشن کمشنر کے پاس جارہی ہیں جس نے چوری کی، 26 ویں ترمیم کے دو مقاصد ہیں الیکشن فراڈ بچایا جائے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوسکے۔
وکیل نے کہا کہ بانی نے ساری پارٹی کو پیغام دیا کہ اب گولیاں نہیں کھانی اب پُرامن احتجاج کرنا ہے جیل سے احتجاج کو میں خود لیڈ کروں گا ہمارے تمام راستے بند ہوچکے ہیں، حقیقی ازادی کیلئے جیل میں ہوں، تمام اپوزیشن جماعتیں جو انسانی حقوق کیلئے کھڑی ہیں ان کو تحریک میں دعوت دیں گے جو نہیں شامل ہونا چاہتا نہ ہو ہم پھر بھی احتجاج کریں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
ویب ڈیسک :وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بلوچستا ن میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے قیام پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ اسلام آباد چاروں صوبوں کا مشترکہ مسکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والے بلوچوں اور پشتونوں نے قیامِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا، وزیراعظم کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت پنجاب نے بلوچستان کے لیے 150 ارب روپے کا حصہ دیا، جبکہ دیگر تین صوبوں نے بھی بلوچستان کے مفاد میں اپنا حصہ ڈالا، یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ قومی بھائی چارے اور یکجہتی کی مثال ہے۔
اوپن مارکیٹ میں مہنگائی برقرار، آٹا، گھی اور دالیں مہنگی
شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر جاری ہے اور بلوچستان کے 27 ہزار ٹیوب ویلز کو سولر توانائی پر منتقل کیا جا چکا ہے تاکہ صوبے میں زرعی اور توانائی کے شعبوں کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں 90 ہزار پاکستانی شہید ہوئے۔
پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری