جے یو آئی کا خیبر پختونخوا میں کرپشن، بدانتظامی کیخلاف احتجاج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کو صوبے میں کرپشن، بدانتظامی، عہدوں کی خرید و فروخت، فنڈز کی نیلامی، کوہستان میں 40 ارب کی کرپشن، سولرائزیشن کی کرپشن، گندم اسکینڈل، زرعی ٹیکس اور مائنز اینڈ منرلز بل کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت سے کوہستان کرپشن اسکینڈل، بی آر ٹی مالم جبہ اور بلین ٹری کرپشن کی تحقیقات کرکے مجرموں کو قوم کے سامنے بے نقاب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبے میں کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف عید کے بعد احتجاج شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پشاور میں مرکزی اور صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جہاں مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کو صوبے میں کرپشن، بدانتظامی، عہدوں کی خرید و فروخت، فنڈز کی نیلامی، کوہستان میں 40 ارب کی کرپشن، سولرائزیشن کی کرپشن، گندم اسکینڈل، زرعی ٹیکس اور مائنز اینڈ منرلز بل کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ جے یو آئی صوبائی حکومت کی کرپشن، اقربا پروری، بدانتظامی، امن و امان کی بگڑتی صورت حال، کم عمری کی شادی کے بل، مائینز اور منرلز بل کے خلاف عید بعد ہزارہ ڈویژن میں احتجاج شروع کیا جائے گا۔ جمعیت علمائے اسلام نے فیصلہ کیا کہ 29 جون کو بٹگرام میں احتجاج کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس میں بی آر ٹی مالم جبہ کیس، کوہستان اسکینڈل اور کرپشن کے واقعات کو صوبائی حکومتوں کے ملکی تاریخ کے بدنام ترین اسکینڈلز قرار دیا گیا۔ اجلاس میں مائینز اور منرلز بل کو صوبے کے حقوق اور اختیارات پر ڈاکا اور اسے آئین کے منافی قرار دیا گیا۔
ترجمان جے یو آئی نے بیان میں کہا کہ اجلاس میں مطالبہ کیاگیا کہ کوہستان اسکینڈل سمیت بی آر ٹی مالم جبہ اور بلین ٹری کرپشن کی تحقیقات کرکے قوم کے سامنے مجرموں کو بےنقاب کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے قومی خزانہ سے لاہور ہائی کورٹ بار کو 8 کروڑ روپے کی خطیر رقم کی منظوری دینے کے فیصلے کو خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ زیادتی قرار دیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اجلاس میں کم عمری کی شادی بل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ قانونی مشاورت کے بعد قانون کو شریعت کورٹ میں چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی اسلام دشمن قانون کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان اجلاس میں کی کرپشن
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔