کرپشن، بدانتظامی، امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر جے یو آئی کا عوامی مہم چلانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
پشاور: جمعیت علمائے اسلام نے خیبرپختونخوا میں کرپشن اقربا پروری، بدانتظامی، امن امان کی بگڑتی صورتحال پر عوامی مہم چلانے کا اعلان کر دیا۔
مولانا فضل الرحمان کے زیر صدارت خیبرپختونخوا کی مجلس عاملہ، مرکزی مجلس عاملہ اراکین اور صوبائی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا۔
اجلاس کے شرکاء نے مولانا فضل الرحمان کو صوبائی حکومت کی کرپشن، بدانتظامی، فنڈز کی نیلامی ، کوہستان سکینڈل بارے صورتحال سے آگاہ کیا، اجلاس میں اہم معاملات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد متعدد فیصلے کیے گئے۔
کم عمر کی شادی بل اور مائنز اینڈ منرلز بل کے خلاف بھی جے یوآئی خیبر پختونخوا عوامی مہم چلائے گی، عیدالاضحیٰ کے بعد پہلا تاریخ ساز احتجاج ہزارہ ڈویژن سے شروع ہوگا۔
29 جون کو بٹگرام میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں تاریخ ساز اجتماع کا انعقاد کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مائنز و منرلز بل صوبہ کے حقوق و اختیارات پر ڈاکہ ہے، کوہستان سکینڈل سمیت بی آر ٹی، مالم جبہ اور بلین ٹری منصوبے میں کرپشن کی تحقیقات کرکے قوم کے سامنے مجرموں کو بے نقاب کیاجائے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کم عمری کی شادی بل کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور اس فیصلہ پر قانونی مشاورت کے بعد اسے شریعت کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔