772 روز سے جھوٹے مقدمات میں قید ہوں،بانی پی ٹی آئی کاچیف جسٹس کوخط
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
امانت گشکوری : بانی تحریک انصاف کی جانب سےچیف جسٹس آف پاکستان کولکھے گئے خط کے مندرجات سامنے آگئے۔
بانی تحریک انصاف نے لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ 772 روز سے جھوٹے مقدمات میں قید ہیں اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی بے گناہ قید کیا گیا ہے،اہلخانہ اور وکلا ءسے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی اور انصاف کے دروازے ان پراور ان کی اہلیہ پر بند ہیں۔
بانی پی ٹی آئی نے لکھا کہ جیل کا کمرہ 9x11 کے پنجرے میں بدل دیا گیا ہے جبکہ ان پر 300 سے زائد سیاسی مقدمات درج کیے گئے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں رکھتے۔
پاکستان میں مشرق ڈیجیٹل بینک کا آغاز، امارات سے پاکستانی مفت ترسیلات زر بھیج سکیں گے
خط میں استدعا کی گئی ہے کہ بشریٰ بی بی کو فوری طبی سہولت دی جائے اور انہیں بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
بانی پی ٹی آئی نے خط میں مزید لکھاہے کہ سپریم کورٹ بنیادی حقوق کی ضامن ہے،امید ہے آپ حلف کی پاسداری کرتے ہوئے انصاف فراہم کریں گے،بشریٰ بی بی کی صحت بگڑ رہی ہے لیکن ڈاکٹر کو معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی،بشریٰ بی بی کے علاج کیلئے ڈاکٹر تک رسائی فوری فراہم کی جائے۔
کویتی شہریت سے محروم افراد کے لیے بڑی خوشخبری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اور ان
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔