Daily Ausaf:
2026-06-03@05:31:06 GMT

پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ ’’مذاکرات‘‘ میں ڈیڈ لاک

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

پاکستان تحریکِ انصاف اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشیدگی کسی ایک دن کی پیداوار نہیں، مگر حالیہ دنوں میں امریکہ سے آئے ایک مخصوص وفد کی ناکام ثالثی کی کوشش نے اس ڈیڈ لاک کی گہرائی اور پیچیدگی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران بھی ایک بار یہی وفد پاکستان آیا تھا۔ اس وفد نے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک سے طویل ملاقات کی تھی، جس کے بعد پی ٹی آئی کے اندر ہی اس اقدام پر شدید تنقید سامنے آئی۔ کئی پارٹی رہنمائوں نے اسے بغیر مینڈیٹ والی ثالثی قرار دے کر مسترد کیا، جس کے بعد ثالثی کی یہ پہلی کوشش ہی ڈیڈ لاک میں بدل گئی۔
اس وفد کی آمد کے پیچھے وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کردار بھی نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے دورے کےوقت اگرچہ وفد نے بعض مقتدر حلقوں سے روابط قائم کیے تھے، مگر اس کی کوششیں پی ٹی آئی قیادت کے اعتماد سے محروم رہیں۔ اب ایک بار پھر وہی وفدخاموش سفارتکاری کی امید لےکراسلام آبادآیا،مگرچاردن اسلام آباد میں موجودگی کے بعد کوئی بریک تھرو حاصل کیے بغیر لاہور روانہ ہو گیا۔ وفد کی خواہش تھی کہ عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہو، تاکہ بات چیت کی بنیاد رکھی جا سکے، لیکن نہ ملاقات ہوئی، نہ پیغام رسانی کی راہ ہموار ہو سکی۔
وفد کے قریبی ذرائع کے مطابق، وہ ہفتے کے روز واپس امریکہ روانہ ہونے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر اب قیام میں توسیع پر غور کر رہے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ عمران خان کو ان کی آمد کا علم ہے اور ممکن ہے کہ بانی پی ٹی آئی جلد ان سے ملاقات پر آمادہ ہو جائیں لیکن عملا وفد کو نہ صرف پی ٹی آئی قیادت سے سرد مہری ملی، بلکہ اسلام آباد میں کسی مقتدر شخصیت تک رسائی بھی ممکن نہ ہو سکی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وفد کا ایک رکن چند ماہ قبل بھی پاکستان آیا تھا اور اس وقت عمران خان سے اس کی پرسکون ملاقات ہوئی تھی۔ مگر اب منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے۔ اس وقت نہ صرف پی ٹی آئی کی اندرونی صفوں میں عدم اعتماد کی فضا ہے، بلکہ پارٹی کی مجموعی حکمتِ عملی بھی شدید مزاحمت پر مبنی ہے۔ پارٹی کے بعض عناصر کی نظر میں یہ وفد کسی ڈیل” کا قاصد ہے، جسے وہ عمران خان کے بیانیے سے متصادم سمجھتے ہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ وفد علی امین گنڈاپور اور عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان سے رابطے میں ہے۔ یہ رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے اندر ایک طبقہ مصالحت کا حامی ہے، مگر ان کی آواز دب کر رہ گئی ہے۔ پارٹی کی قیادت اب ایک ایسی پوزیشن پر کھڑی ہے جہاں ہر مفاہمتی کوشش کو سازش سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتا وفد کی موجودگی نہ صرف بے اثر رہی بلکہ ایک بار پھر اس بات کا ثبوت بنی کہ پی ٹی آئی کی داخلی کشمکش اسے کسی بھی تعمیری کوشش کے لیے ناموزوں بنا چکی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کی جانب سےحالیہ مہینوں میں بارہا واضح کیا گیا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں رکھے گی۔ اس پالیسی کے تناظر میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی طرف سے جاری جارحانہ بیانیہ، بین الاقوامی سطح پر لابنگ، اور سوشل میڈیا پر فوجی قیادت کے خلاف مہمات حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ثالثی کی گنجائش کو ختم کر رہا ہے، بلکہ عسکری قیادت کی غیرمداخلت کی پالیسی کو بھی ایک نئے امتحان میں ڈال رہا ہے۔
امریکہ سے آئے اس وفد کا تاثر یہی ہے کہ پی ٹی آئی کا سخت موقف اب تعمیری بات چیت کے لیے فضا باقی نہیں رہنے دیتا۔ وفد کے ارکان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مسلسل تنقید، موقف کی سختی، اور کسی بریک تھرو کی عدم موجودگی پارٹی کو ایک ایسی بند گلی میں لے جا رہی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ خود عمران خان کے لیے بھی مشکل ہو سکتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ڈیڈ لاک کا نقصان کس کو ہو رہا ہے؟ ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ نقصان خود پاکستان تحریکِ انصاف کو پہنچ رہا ہے۔ وہ پارٹی جو ایک وقت میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن چکی تھی، آج اندرونی خلفشار، قیادت کی تنہائی، اور ایک غیرلچکدار پالیسی کی بدولت غیر متعلق ہوتی جا رہی ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو نہ صرف پارٹی اپنی قانونی اور سیاسی بقا کی جنگ ہار جائے گی، بلکہ عمران خان کی قیادت پر سوالات بھی بڑھتے جائیں گے۔
دوسری طرف، اسٹیبلشمنٹ کو بظاہر اس ڈیڈ لاک سے فوری طور پر کوئی نقصان نہیں، مگر طویل المدتی تناظر میں عوامی تاثر، ادارے کی ساکھ اور سیاسی منظرنامے میں کردار کی نوعیت ضرور متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر ایک بڑی سیاسی جماعت کو مکمل طور پر دیوار سے لگا دیاجائے یا رنگ سے باہر دھکیل دیا جائے تو یہ جمہوری ڈھانچے کے لیے بھی خطرناک پیغام ہوگا۔
اس سارے معاملے میں اصل نقصان ریاست پاکستان اور اس کے 25 کروڑ عوام کا ہے۔ جب سیاسی قوتیں آپس میں مکالمے کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دیتی ہیں، تو ریاستی ادارے، معیشت، اور سفارتی تعلقات سب کچھ دائو پر لگ جاتا ہے۔ سرمایہ کاری کا ماحول غیر یقینی کا شکار ہو جاتا ہے، عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کمزور پڑتی ہے، اور عام شہری کا اعتماد سیاسی نظام سے اٹھ جاتا ہے۔
یہ ڈیڈ لاک محض ایک سیاسی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازعہ نہیں، بلکہ یہ اس اجتماعی سیاسی ناکامی کی علامت ہے جو اس وقت پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیئے ہوئے ہے۔ جب تک داخلی کشمکش کا خاتمہ نہیں ہوتا، کوئی بھی ثالثی، خواہ وہ امریکہ سے ہو یا اندرونِ ملک، کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اور یہ حقیقت اب ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید تلخ کو انتہائی ہوتی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی ڈیڈ لاک جاتا ہے رہا ہے وفد کی کے لیے اس وفد

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے