Daily Ausaf:
2026-06-03@04:35:53 GMT

یوم تکبیر:غیرت،قوت اور قوم پرستی کا دن

اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT

28 مئی 1998ء کا دن محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، بلکہ پاکستان کے تابناک عزم،قومی غیرت اور ناقابل تسخیر حوصلے کی ایک گونجتی ہوئی صدا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک طرف دشمن کے عزائم خاک میں ملائے گئے تو دوسری طرف پوری دنیا کو یہ باور کرایا گیاکہ پاکستان ایک زندہ قوم ہے۔جس کے نظریے، سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔یوم تکبیر، اس دن کی علامت ہے جب چاغی کی سنگلاخ پہاڑیوں نے ”اللہ اکبر” کی صداؤں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پوری قوم نے یکجہتی، اعتماداور حب الوطنی کےجذبےمیں ڈوب کراپنےسرفروش سائنسدانوں، عسکری قیادت اور سیاسی حوصلے کو سلام پیش کیا۔ یہ صرف ایٹمی دھماکے نہیں تھے، یہ ایک غیر معمولی پیغام تھا کہ ہم نہ صرف اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں بلکہ اپنی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔پاکستان نے ایٹمی طاقت بن کر جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بحال کیا۔ بھارت نے 1974ء میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا اور پھر 1998ء میں پانچ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی مگر پاکستان نے صرف 17دن کے اندراندرجواب دےکر دشمن کو اس کےخوابوں سے بیدار کر دیا۔ ان دھماکوں کے ساتھ ہی پاکستان دنیا کی ساتویں اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بن گیا۔ یہ محض ایک سائنسی کارنامہ نہیں تھا بلکہ یہ ہمارے قومی وجود، نظریاتی اساس اور دفاعی وقار کی مکمل تصویر تھی۔یوم تکبیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی قوم کی عظمت اس کے وسائل یا ساز و سامان میں نہیں بلکہ اس کے نظریے، عزم اور حوصلے میں پنہاں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور ان کی ٹیم نے جو کارنامہ سرانجام دیاوہ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے نہ صرف ایک ناممکن کو ممکن بنایابلکہ پوری دنیا کو حیران کر دیا کہ محدود وسائل اور پابندیوں کے باوجود، اگر نیت صاف ہو اور منزل کا تعین ہو، تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ایٹمی طاقت حاصل کرنے کا عمل راتوں رات مکمل نہیں ہوا۔ یہ برسوں پر محیط ایک مسلسل جدوجہد، تحقیق، ایثار، اور قربانیوں کا ثمر تھا۔ ان سا ئنسدانوں نے اپنے دن رات ایک کر کے اس منصوبے کو کامیاب بنایا اور وہ بھی اس وقت جب عالمی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور اندرونی مسائل پاکستان کے گرد شکنجہ کس چکے تھے۔ مگر قیادت کی بصیرت، عوام کا اعتماداور افواجِ پاکستان کی پشت پناہی نے اس قومی خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا۔یوم تکبیر اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آج جب ہم اس دن کو مناتے ہیں تو ہمیں اس کے پس پردہ چھپی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ وہ سائنسدان جو گمنامی میں رہ کر ملک کے لیے خدمات انجام دیتے رہے، وہ فوجی جو اس اثاثے کی حفاظت میں سرد و گرم جھیلتے رہے وہ حکمران جنہوں نے عالمی دباؤ کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دی، سب کے سب ہمارے محسن ہیں۔یوم تکبیر نہ صرف پاکستان کی دفاعی طاقت کی علامت ہے بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے فخر کا مقام ہے۔ جب چاغی کی پہاڑیاں گونجیں تو عالم اسلام کا سر فخر سے بلند ہوا۔ دشمنانِ اسلام کے لیے یہ ایک واضح پیغام تھا کہ مسلم دنیا کمزور نہیں اوراگر متحد ہوجائے تودنیاکی کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام مسلم امہ کی اجتماعی سوچ، نظریاتی بنیاد اور قومی حمیت کا آئینہ دار ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس طاقت کو نہ صرف برقرار رکھیں بلکہ اس کی افادیت کو مزید مؤثر بنائیں۔ صرف اسلحے سے قومیں محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ علمی، سائنسی، اقتصادی اور اخلاقی میدانوں میں ترقی ہی حقیقی خودمختاری کی ضامن ہوتی ہے۔ ہمیں یوم تکبیر کے جذبے کو ہر شعبہ زندگی میں منتقل کرنا ہوگا۔ ہم نے جس عزم سے چاغی کے پہاڑوں کو لرزایا تھا اسی حوصلے سے ہمیں جہالت، غربت، بے روزگاری اور کرپشن جیسے دشمنوں کے خلاف بھی لڑنا ہوگا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا وطن کسی مصلحت یامروّت کے تحت حاصل نہیں ہوابلکہ لاکھوں قربانیوں، خون کی دھاراؤں اور جذبہ ایثار سے حاصل کیا گیا۔ ہمیں اس دن کو صرف جلسوں، تقاریر، یا ٹی وی پر مباحثوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ہر پاکستانی کو اپنی سطح پر یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ ملک کے دفاع، ترقی اور استحکام میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے گا۔ یہ وہ دن ہے جب ہم نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستانی قوم صرف نعرے لگانے والی نہیں بلکہ عمل کا ہنر بھی جانتی ہے۔ آج وقت ہے کہ ہم اپنی خودی کو پھر سے بیدار کریں، تعلیم، صحت، معیشت، سائنس اور اخلاقی اقدار کے میدانوں میں بھی ایٹمی دھماکےکریں، تاکہ دنیا دیکھ لے کہ یہ قوم صرف دفاعی لحاظ سے ہی نہیں بلکہ ہر میدان میں ناقابل تسخیر ہے۔یاد رکھیں، ایٹمی طاقت ہونا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے اس اسٹریٹجک پروگرام کی حفاظت کرنی ہے اسے سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے قومی سلامتی کے دائرے میں رکھنا ہے۔ دشمن ہماری صلاحیتوں سے خوفزدہ ہے اور وہ ہمیشہ سازش کرے گا۔ ہمیں اس سازش کا جواب بھی ویسے ہی دینا ہے جیسے 1998ء میں دیا تھا: اتحاد، یگانگت، اور قربانی سے۔یوم تکبیر صرف ماضی کی فتح کا جشن نہیں، بلکہ ایک مسلسل عزم اور استقامت کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر قوم متحد ہوجائے، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس دن کی اہمیت سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے بزرگوں نے کس حوصلے سے یہ دن ممکن بنایا اور اب ان کی باری ہے کہ وہ اس ورثے کو سنبھالیں، سنواریں اور آگے بڑھائیں۔یوم تکبیر ایک نظریہ، ایک پیغام اور ایک مشن ہے۔ یہ پیغام ہے غیرت کا، یہ مشن ہے وقار کا، یہ نظریہ ہے بقا کا۔ آج جب دنیا بدل رہی ہے۔ طاقت کے پیمانے تبدیل ہو رہے ہیں اورچیلنجز نئی شکلوں میں سامنے آ رہے ہیں تو ہمیں بھی اپنے عزم، اپنی سمت اور اپنی حکمت عملی کو ازسرنو استوار کرنا ہوگا۔ ہمیں ہر دن کو یوم تکبیر کے جذبے کے ساتھ جینا ہوگا تاکہ ہم ایک باوقار، خوشحال اور مضبوط پاکستان کی طرف بڑھ سکیں۔
نہ جھکے، نہ رکے، نہ کبھی ہم تھکے
یہ وطن ہے ہمارا ہم محافظ بنے اسکے

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: یوم تکبیر ہیں بلکہ ہے کہ ہم کے لیے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف