مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف خصوصی پرواز کے ذریعے اچانک لندن پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
لندن (اوصاف نیوز)مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نوازشریف طبی معائنے کے لیے لندن پہنچ گئے۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ لندن روانگی کے لیے سابق وزیراعظم نوازشریف جاتی عمرہ سے اولڈ ایئرپورٹ پہنچے اور پھر لاہور سے خصوصی پرواز کے ذریعے لندن روانہ ہوئے۔
تاہم اب نواز شریف لندن پہنچ گئے ہیں، ان کے صاحبزادے حسن نواز بھی والد کے ہمراہ ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق نوازشریف لندن میں چند روز قیام کریں گے اور عید بھی لندن میں ہی منائیں گے جبکہ لندن میں قیام کے دوران نوازشریف اپنا چیک اپ بھی کروائیں گے۔
اس سے قبل نواز شریف گذشتہ سال اکتوبر میں لندن گئے تھے، نواز شریف تقریبا 7 ماہ کے بعد دوبارہ لندن کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔
کراچی میں رات گئے یکے بعد دیگرے زلزلے کے تین جھٹکے، شہریوں میں خوف و ہراس
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نواز شریف
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔