توشہ خانہ میں جمع کرائے گئے تحائف کی تفصیلات جاری، کس کو کیا ملا؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
کابینہ ڈویژن نے جنوری سے 30 جون 2025 تک توشہ خانہ میں جمع کرائے جانے والے تحائف کی فہرست جاری کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس کا ٹرائل حتمی مرحلے میں داخل
فہرست میں صدر، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، نائب وزیراعظم، وزیر داخلہ اور تینوں سروسز چیفس شامل ہیں۔
حکومتی نمائندوں کو تحائف میں گھڑیاں، ڈیکوریشن پیسز، قالین، کافی سیٹ، ٹیبل کلاتھ اور ایک الیکٹرک گاڑی دی گئی ہے۔
رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں وزیراعظم شہباز شریف کو 2 گھڑیاں، منبر رسول ﷺ کا ماڈل، کتابیں، شیلڈز اور ہینڈ میڈ کارپٹ سمیت کئی قیمتی اشیا تحائف میں دی گئیں۔
مزید پڑھیے: وفاقی کابینہ: توشہ خانہ کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے ایکٹ پر نظرثانی کا فیصلہ، کمیٹی تشکیل
صدر آصف علی زرداری کو کارپیٹ، کافی سیٹ، پینٹنگ فریم، لیڈیز سوٹ اور الیکٹرک گاڑی دی گئی جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ترکیہ کے صدر کی جانب سے ٹی سیٹ کا تحفہ دیا گیا۔
ایئر چیف ظہیر احمد سدھو کو ڈش آئٹم اور نیول چیف نوید اشرف کو بھی ٹی سیٹ تحفے میں دیا گیا۔
مزید پڑھیں: زرداری، نواز اور گیلانی کی توشہ خانہ کیس ایف آئی اے کو بھجوانے کی استدعا مسترد
کابینہ ڈویژن کے مطابق تمام 322 تحائف حسب ضابطہ توشہ خانہ میں جمع کرا دیے گئے ہیں اور اس وقت کابینہ ڈویژن وصول شدہ تحائف کا تخمینہ لگوا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحائف کی فہرست جاری توشہ خانہ توشہ خانہ تحائف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحائف کی فہرست جاری توشہ خانہ توشہ خانہ تحائف توشہ خانہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔