اگر آپ بھی 90 کی دہائی میں بڑے ہوئے ہیں تو یقیناً زکوٹا جن کا ’’مجھے کام بتا دو، میں کیا کروں؟‘‘ جیسا کوئی ڈائیلاگ آج بھی آپ کی یادوں میں تازہ ہوگا۔ خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنے ماضی کے سپر ہٹ ڈرامے ’عینک والا جن‘ کو اب اعلیٰ معیار (ایچ ڈی) میں دوبارہ جاری کر دیا ہے، اور وہ بھی یوٹیوب پر۔ یعنی اب وقت اور دن کی قید کے بغیر، جب چاہیں، جہاں چاہیں!یہ شہرۂ آفاق بچوں کا ڈرامہ پہلی بار 1993 میں نشر ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر عمر کے افراد کے دلوں پر راج کرنے لگا۔ جادو، مہم، مزاح اور سبق آموز کہانیاں اس شو کا خاصا تھیں۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بچے شام کے وقت کھیل کود چھوڑ کر اس کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اب پی ٹی وی نے اسے نئی نسل تک پہنچانے کے لیے جدید ویژول کوالٹی میں پیش کیا ہے تاکہ وہ بھی انہی کرداروں سے ویسا ہی لطف اٹھا سکیں جیسے پچھلی نسلیں کرتی رہیں۔نستور جن، جو کہ ایک نیک دل اور جادوئی قوتوں کا حامل جن ہے، کہانی کا مرکزی کردار ہے۔ وہ اپنی دنیا ’’کوہ قاف‘‘ سے زمین پر آتا ہے اور یہاں ایک ذہین لڑکے عمران سے دوستی کرلیتا ہے۔ اس کے بعد جادوئی دنیا کے دروازے کھلتے ہیں، جہاں بل بتوڑی کی چالاکیاں، زکوٹا جن کی سادگی، اور سامری جادوگر کی شعبدہ بازیاں ناظرین کو ہنسانے اور حیرت میں ڈالنے کا کام کرتی ہیں۔اس ڈرامے کی خوبی صرف تفریح تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس میں چھپی معاشرتی اور اخلاقی تعلیمات نے بچوں کی سوچ اور کردار سازی پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ اس وقت کے محدود وسائل کے باوجود جو اسپیشل ایفیکٹس استعمال کیے گئے، وہ اپنی مثال آپ تھے، اور وہی جملے آج بھی پاکستانی کلچر میں زندہ ہیں۔اب ’عینک والا جن‘ کی تمام اقساط پی ٹی وی کے سرکاری یوٹیوب چینل پر دستیاب ہیں۔ جو لوگ بچپن کی یادوں کو تازہ کرنا چاہتے ہیں یا اپنے بچوں کو ایک معیاری، مزاحیہ اور تعلیمی ڈرامہ دکھانا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کسی تحفے سے کم نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے