وفاقی حکومت نے کے الیکڑک کے ٹیرف کے خلاف نیپرا میں نظر ثانی اپیل دائر کردی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے نیپرا میں دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ کے الیکڑک کو نیشنل گرڈ سے ملنے والی بجلی کی نسبت زیادہ ٹیرف دیاگیاہے، زیادہ ٹیرف دینے سے دو سال میں وفاق پر 59 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

وزارت توانائی نے کے الیکڑک کو ریکوری لاسز ٹیرف مِیں وصول کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ ٹیرف سے سات سال میں صارفین پر200 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی بجلی کمپنی کو ایسا خصوصی الاؤنس نہیں دیا گیا جبکہ نیپرا نے نقصانات کی حد کے الیکڑک کی طلب سے زیادہ 90۔13 فیصد مقرر کیاہے۔ 

وزارت توانائی نے لا اینڈ آرڈر مارجن کی دو فیصد کا سپیشل مارجن دینے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ کے الیکڑک کو ڈالرز میں بارہ فیصد ریٹرن آن ایکویٹی دیا گیا ہے، اس اقدام کا ٹیرف پیریڈ کے دوران 37 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ کے الیکڑک کے پلانٹس کو کیپسٹی پیمنٹس کی اجازت سے 82 ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا۔

وزارت توانائی نے کہا کہ نیپرا فیصلے سے کراچی کے بجلی صارفین کے بلوں میں بڑا اضافہ ہوگا اور کے الیکڑک کو ناجائز ٹریٹمنٹ دینے سے دوہرا سسٹم جنم لے گا۔

وفاقی حکومت نے تمام کمپنیوں کے ساتھ یکساں سلوک اختیار کرنے کی درخواست کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی حکومت بوجھ پڑے گا ارب روپے گیا ہے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم