’معاشی خود انحصاری کا انحصار پانی و توانائی کے ذخائر پر ہے‘، وزیراعظم کا دیامر بھاشا ڈیم کی فوری تکمیل کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معاشی خود انحصاری کا انحصار سستی توانائی اور زرخیز زراعت پر ہے، جس کے لیے پانی کی ذخیرہ گاہوں میں اضافہ اور اس کا مؤثر استعمال ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ملک میں توانائی کی پیداوار اور پانی کے مستحکم ذخیرے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت دیامر بھاشا ڈیم اور دیگر آبی وسائل سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے، زراعت کے لیے پانی کی فراہمی یقینی بنانے اور سیلاب کی روک تھام کے لیے نئے ڈیموں کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔
مزید پڑھیں: دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں اہم پیشرفت، دریائے سندھ کا رخ کامیابی سے موڑ دیا گیا
شہباز شریف نے دیامر بھاشا ڈیم کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنے اور منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی روابط رانا ثنا اللہ، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی معاشی خود انحصاری دیامر بھاشا ڈیم زرخیز زراعت سستی توانائی وزیراعظم محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کی معاشی خود انحصاری دیامر بھاشا ڈیم سستی توانائی وزیراعظم محمد شہباز شریف دیامر بھاشا ڈیم وفاقی وزیر کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔